[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

موم بتی سے معاشقہ، اندھیروں کے بغیر

[/vc_column_text][vc_column_text]

اندھیرے
موم بتی کے
جنازے پڑھاتے ہیں
کوئی نہیں جانتا
موم بتی
اپنے شعلے نگل کر
اپنی بتی سے لٹک کر
خودکشی کر کے مری ہے
یا ناحق معصوم جلی ہے
ہو سکتا ہے
اپنے کفن میں دم گھٹ کر گھلی ہو؟

 

کوئی کیا کہہ سکتا ہے
اندھیرے کے امام بتاتے ہی نہیں
یہ شہید کی نمازِ جنازہ ہے
یا موم بتی کی سرکٹی لاش
خدا کی بستی کے سرہانے کھڑی ہوگی
یہ کرسچین قبرستان میں دفنائی جاۓ گی
یا باوضو مری تھی
اندھیرے کے امام کچھ نہیں بتاتے

 

مجھے لگتا ہے
موم بتی کی روح
سردیوں والی دھوپ میں
خدا کے زمینی چمکیلے دربار میں
رقاصہ بن جاتی ہے

 

مجھے لگتا ہے
موم بتی گونگی نہیں مرتی
اس کی سماع کی آخری محفل میں
اندھیروں کے رسولوں کی
جھوم دیکھو
ایسا لگتا ہے چاند
اپنی زمینوں سے باتیں کر رہے ہوں

 

موم بتی میں برقی روشنیوں کا چھوٹا پن نہیں
یہ رات کے آخری مورچوں میں
اندھیروں سے
آدھی جیت
آدھی ہار جاتی ہے

 

تم موم بتی کی نسل میں سے ہو
تمہیں تو پتا ہے
اندھیروں کی اپنی روشنی ہوتی تھی
جن کی ڈکاریں
اب برقی روشنیاں مارتی ہیں
موم بتی
انصاف پسند ہے
اس کی خودکشی حرام نہیں ہے

 

تمہیں معلوم ہے
موم بتی کے انصاف سے لے کر
امر برقیات کے جہنم پیٹ تک
آدمی کتنا آدھا، کتنا اندھا ہوگیا ہے
اندھیرے چھانٹ چھانٹ کر
میرے بچے ادھورے، امر روشنی کے سامنے
اکڑوں بیٹھے
حیوان گھنٹوں کی اذانیں دے رہے ہیں

 

انہیں کیا معلوم اندھیرے
موم بتی کے جنازے کیوں پڑھاتے ہیں
میرے اور ان کے کمرے کی برقی روشنیاں
سالی
مرتی ہی نہیں
کمروں کے اندھیرے چہرے
پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں
جیسے شہر کے آسمان روتے ہیں

 

تم نے اندھیرے میں اپنی
آنکھوں کے چھکے چھوٹتے دیکھے ہیں؟
بینائی کی توبہ کی آواز سنی ہے؟
اندھیرے میں انسان
اپنی اوقات سے لپٹ کر سو جاتا ہے

 

میں کیسے سمجھاؤں کہ کبھی
دیکھنے کے لیے روشنی بجھانی پڑتی ہے
عالمِ دید
منظروں کے دل
اندھیرے کے سینے پر بلکتے ہیں

 

تم زمین کو ٹھونک بجا کر دیکھ لو
کائنات کی پہلی سانسیں
آخری سسکی سن لو
کچھ مکمل نہیں ہوتا
اندھیروں کے بغیر

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Leave a Reply