بنوں اور پشاور میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے گزشتہ روزاپنے مطالبات منوانے کے لئےمظاہرے کئے ہیں۔بنوں میں وزیرستان آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے طلبہ نے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے 31 اگست سے قبل وزیرستان واپسی کا مطالبہ کیا جبکہ پشاور میں قبائلی علاقوں کے طلبہ نے کوٹہ سسٹم پر داخلوں کے خاتمہ وظائف کی بلاتفریق فراہمی کے لئے مظاہرہ کیا۔
” فاٹا سیکریٹریٹ نے خیبرپختونخواہ کے کالجز میں داخلہ کا وعدہ کیا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تعلیم کا حرج نہ ہو اور ہمیں واپس جانے دیا جائے۔”
بنوں کے میلاد چوک پر ہونے والے مظاہرے سے فہیم اللہ، اعجاز الحق اور ابراہیم خان سمیت دیگر طلبہ رہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے اپنے علاقوں میں واپسی کی اجازت کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے میں شریک طلبہ نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں وزیرستان کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا۔ مظاہرے میں شریک ایک طا؛لب علم عظیم خان نے کہا کہ ان سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا،” فاٹا سیکریٹریٹ نے خیبرپختونخواہ کے کالجز میں داخلہ کا وعدہ کیا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تعلیم کا حرج نہ ہو اور ہمیں واپس جانے دیا جائے۔” بنوں میں دو ماہ سے مقیم حمزہ خان کے مطابق کلاسز شروع ہونے والی ہیں اور وہ ابھی تک کیمپ میں ہیں،”ہم کیمپ میں ہیں اورکلاسیں شروع ہونے والی ہیں، فوج کہتی ہے کہ 80 فی صد علاقہ دہشت گردوں سے پاک ہو گیا ہے تو اب ہمیں یہاں کیوں رکھا ہوا ہے۔”
پشاور میں فاٹا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (ایف ایس او) کے تحت مختلف قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباوطالبات نے کوٹہ کے تحت داخلوں کے نظام کو ختم کرنے اور بلا تفریق وظائف جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے میں شریک طلبہ نے خیبر پختونخواہ کے تعلیمی اداروں میں میرٹ پر داخلہ کا مطالبہ کیا۔ ایف ایس او کی رہنما زارازمان نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں تعلیمی اداروں کی صورتحال کو مخدوش قرار دیا،”فاٹا کے بیشتر تعلیمی ادارے امن و امان کی خراب صورت حال کے باعث بند کر دیے گئے ہیں یاان کی قبائلی عمائدین کے ذاتی استعمال میں ہونے کی وجہ سے وہاں تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں، اس لئے ہمیں خیبرپختونخواہ کے تعلیمی اداروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ کوٹہ کی وجہ سے بہت سے طلبہ خصوصاً طالبات تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں۔
ایف ایس او رہنما شوکت عزیز نے وظائف کی فراہمی کے نظام پر تنقید کی،”حکومت نے فاٹا طلبہ کے لئے وظائف کا اعلان کیا تھا لیکن چند بااثر طلبہ ہی ان وظائف سے اتفادہ کر پاتے ہیں، حکومت کو بلاتفریق وظائف کی فراہمی یقینی بنانی چاہئے۔” مظاہرے میں شریک طلبہ نے قبائلی علاقوں میں یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔

Leave a Reply