[blockquote style=”3″]

محبت کی نظمیں کسی کے عشق میں گرفتار ہوکر لکھی جاسکتی ہیں۔ یہ نظمیں پچھلے پندرہ بیس دنوں میں فیس بک پر دیوناگری میں پوسٹ کرتا رہا ہوں، اردو میں اب تک کی پوسٹ شدہ ساری نظمیں لالٹین ویب سائٹ پر شائع ہورہی ہیں، یہ بے ترتیب نظمیں ایک لڑکی سے عجیب و غریب قسم کے کہر آمیز رشتے کی دین ہیں، جس کو میں محبت کا نام دے رہا ہوں۔ چنانچہ جب یہ کتابی صورت میں شائع ہونگی تو اسی کے نام انہیں انتساب بھی کیا جائے گا اور ٹائٹل کور پر اسی کی تصویر بھی آراستہ کی جائے گی۔ ابھی تک پچاس کے قریب یہ نظمیں لکھی جاچکی ہیں، جو اسی بیاسی تک پہنچ کر کتابی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ (تصنیف حیدر)

[/blockquote]

(1)

رات
اس کی نظمیں سنتے گزری
جیسے سیاہ آنئوں پر نیلی روشنیوں
کا رقص ہو
جیسے سرخ پانیوں میں
سبز پرندوں کا عکس ہو
اس کے لبوں سے لفظ یوں جھڑ رہے تھے
جیسے جھرنوں سے سفیدی
دلوں سے درد
اور بہت جاگی ہوئی آنکھوں سے
خمار ٹپکتا ہے
٭٭٭

(2)

برق ایک بدن کا نام ہوسکتا ہے
ساون دو آنکھوں کا مکین بن سکتا ہے
ابرقوں کی طرح ہتھیلیوں سے شرارے پھوٹ سکتے ہیں
ونڈ چائم ایک ہنسی میں تیر سکتی ہے
تھاپ کو ہونٹوں کی جنبش سے بھی پیدا کیا جاسکتا ہے
سرگم، سروں کی مالا اتار کر لفظ کا زنار پہن سکتی ہے
دھوپ سائبان بن سکتی ہے
دکھ مہربان لگ سکتا ہے
عقل حیران ہوسکتی ہے
اور محبت
سناٹے کے پسینے سے تربتر
سنہرے صحرائوں کے سینے پر
زخم کے بجائے پھول بھی کھلا سکتی ہے
٭٭٭

(3)

تمہاری
ناراضگی
جھپکی کی طرح
پیدا ہوتی ہے
سرد رات میں لمبی اور
سنسان سڑک پر
سواری دوڑاتے ہوئے

قصاب کی دوکان میں
لکڑی کے گول ٹھیہے پر
انگلیوں کے پاس سے
گزرتے ہوئے
دھاردار چھرے کی طرح

آندھی میں کسی
شاخ سے لپٹے ہوئے
پتے کی مانند

اور
اس وقت کی مثال
جو حسرتوں کے بادلوں
میں لپٹی ہوئی چاندنی رات
بن کر نازل ہو
٭٭٭

(4)

محبت میں کبھی
ایسا بھی ہوتا ہے
کہ آس پاس لیٹے
دو انتہائی ننگے بدن
خواب کے
زخم دکھ جانے کے ڈر سے
ایک دوسرے کی آنکھوں پر
ہاتھ رکھ دیتے ہیں
٭٭٭

(5)

باتوں کو
کسی رشتے کی بنیاد
ماننے والی لڑکی
کل رات
بہت خاموش تھی
٭٭٭

(6)

محبت میں غلط فہمیاں
پیٹھ پر
اجالوں کا بوجھ اٹھائے
سینے پر
اندھیروں کا زخم سجائے
دور سے دکھ جاتی ہیں
خلائوں میں
تیرتی ہوئی ان غلط فہمیوں
کا دوسرا نام امید ہے
اور اس امید کا پیرہن
پیچھے سے جل رہا ہے
اور
آگے سے برس رہا ہے
٭٭٭

(7)

خوبصورتی میں اس کی
مثال ڈھونڈھنا
ممکن نہیں

کیوں کہ وہ
کتابوں کی سیلی پر
سجی مہک ہے
سمندری لہراتوں سے
تراشا ہوا
سرمئی پتھر ہے
سرد راتوں میں
سلائڈنگ سے نظر آتی
ہلکی نیلی چمک ہے
چٹخارے کے ٹھیک درمیان
پیدا ہونے والا رس ہے

پھر بھی
اس کافر کو
میرے اس یقین پر
شک ہے
کہ وہ قدرت کی
سب سے حسین تخلیق ہے
٭٭٭

(8)

میں
تمہارے سرمئی سینے پر
اپنی انگلیوں سے
لمس کی وہ دھاریاں بنانا چاہتا ہوں
جنہیں وقت
سانسوں کے دھوئیں سے اتنا سرخ کردے
کہ تمہاری گردن سے رانوں تک
پھیلے ہوئے تاروں میں
میری خواہش کے
گرم سیال کے علاوہ
اور کچھ نہ بہے

میری کروٹوں میں
چٹختی ہوئی دوپہریں
تمہارے جسم کی ان
سرد سسکیوں تک
پہنچنے پر آمادہ ہیں
جن کا رازدار ہوجانا
کانوں کی معراج ہے

وہ دن دور نہیں
جب تصور کا دم
بھرنے والی
دمے کی شکار محبت
تمہارے جسم کے سانولے
عرش تلے لیٹی
تازہ سانسیں لے رہی ہوگی
٭٭٭

(9)

محبت کو
اتنا ہی بے خوف ہونا چاہیے
جتنے سفاک
قدموں سے بھری
اس دنیا میں
مہین کیچوے ہوتے ہیں
٭٭٭

(10)

تم نہیں دیکھ سکتے
اس کو اداس
کیونکہ وہ
ایسے میں
نظر آتی ہے
سبز پہاڑی فرش
اور
تاروں بھرے آسمان
کے بیچ موجود
کسی بینچ پر بیٹھے
تنہا انسان جیسی
٭٭٭

(11)

جب کہا جاچکا ہے
کہ دروازہ بند ہے
جب بتایا گیا ہے
کہ سامنے دیوار ہے
جب لکھا ہوا ہے
کہ آگے راستہ نہیں ہے

پھر یہاں رکنے کا مطلب
پالی ہوئ مایوسی
اور بوئے گئے
افسوس کے سوا کچھ نہیں

تم کیکروں کے بیچ
موجود پانی کی
گونجتی ہوئی لہر نہیں ہو
جس کے نصیب میں
ایک لمبا اور سنہرا راستہ ہو
بغیر رکاوٹ والا
٭٭٭

(12)

وہ ایک کتاب ہے
جسے
حرف بہ حرف
پڑھنے کی میری خواہش

آئنوں کے دل
ہوا کے رقص
اور
رات کے دھندلے سناٹے میں

پہلے سے موجود تھی

مگر ہم سب
صدیوں سے
اسکا چہرہ پڑھے جارہے ہیں

جو تابناکی کا
شہر ہے
سوندھے موسموں کا بازار ہے
نمکین پھولوں سے لدی ہوئی
شاخ ہے
٭٭٭

(13)

ان آنکھوں کی بات نہ کرنا ورنہ نیند نہیں آئے گی

تاروں کے ہمراہ جگیں گے پیتل کے تالاب
ہونٹ کی دھرتی سے پھوٹیں گے شبدوں کے برفاب
جلتا رہے گا رات گئے تک دل کا یہ تنور
شہر کی رات میں خواب لکھے گا سناٹے کا نور
آسمان کی مانگ میں نیلے پانی کا سندور
پنکھے کے بلیڈوں سے رقص اگاتی اک آواز
ڈیسک ٹاپ کے کاندھے پر تنہائی نیم دراز
دیواروں سے ناک رگڑتے گیتوں کے یاجوج
ایک اداس خوشی کے میداں میں سینے کی فوج
اس کی آنکھیں دنیا بھر کے زخموں پر مرہم
سب سے اچھا دنیا میں ان آنکھوں کا موسم
دنیا والو! ان آنکھوں میں ڈوب گئے ہیں ہم
ہم کو کیسا غم
٭٭٭

(14)

جب ایک شاعر
تم سے محبت کرے
تو لازمی ہے
کہ تم قافیوں کی پازیب پہن کر
ذہن کی بے آرام چھتوں پر
رقص کرو
حرف اور لفظ کے بیچ
موجود خلا میں
ٹانگی گئی وقت کی کنجی
اپنی رانوں میں چھپا لو
اور شاعر کی زبان
کھال کی
گرم پرتوں پر لہریں اگاتی ہوئی
تمہارے جسم کے
ان ہلکے سیاہ ہونٹوں تک پہنچ جائے
جو بولنے کے لیے نہیں
دھڑکنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں
٭٭٭

Leave a Reply