چار نومبر 2015ء کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے کہا کہ ’’عوام کا مستقبل جمہوری اورلبرل پاکستان میں ہے، پاکستان نے انتہاپسندی اور دہشت گردی پر قابوپانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، قوم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے کسی طبقے میں بھی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے کینسر کو پھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔ اس کے چند روز بعد وزیراعظم کراچی میں دیوالی کے موقع پر ہندو برادری کے اجتماع میں شریک ہوئے یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار اقلیتی برادری کے کسی مذہبی تہوار میں شریک ہوا۔ اجتماع سے مخاطب ہوکر وزیراعظم نے کہا،’’میں مسلمانوں کے علاوہ ہندووں، سکھوں، عیسائیوں اور پارسیوں کا بھی وزیر اعظم ہوں۔ میں آپ کا ہوں، اور آپ میرے ہیں۔ مجھے ہولی پر بلائیں اور جب میں آؤں تو مجھ پررنگ ضرور پھینکیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’قوم میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا میرامشن ہے، تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی کو فروع دیں، ظالم کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا، اگر ظالم مسلمان بھی ہو تو میں مظلوم کا ساتھ دوں گا‘‘۔

پاکستان تب تک ایک لبرل، سیکولر اور حقیقی معنوں میں جمہوری ریاست تب تک نہیں بن سکتا جب تک موجودہ آئین کے دیباچے سے قراردادِمقاصد کو حذف کر کے اس کی جگہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کو قانون ساز اسمبلی میں کی جانے والی تاریخی تقریر کو شامل نہیں کیاجائے گا۔
وزیر اعظم کی ان بیانات کے بعد ملک کے لبرل، روشن خیال طبقات میں خوشی کی لہردوڑ گئی کہ چلو’’دیر آید درست آید‘‘بالآخر دائیں بازو کی قدامت پسند مذہبی سوچ کی حامل مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کو ارضی حقائق کا ادراک ہوگیا ہے، اور شاید اب پاکستان ماضی کی تاریکیوں سے نکل کر روشن خیالی اوراعتدال پسندی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ البتہ بعض روشن خیال دانشوراس خدشے کا بھی اظہار کر رہے تھے کہ کہیں وزیراعظم ملکی سیاسی فضاء کی صورت حال کو بھانپ کر سن 2018ء کے پارلیمانی انتخابات میں لبرل طبقات کی حمایت حاصل کرنے کی غرص سے یہ شوشہ تونہیں چھوڑ دیا ہے۔ لیکن عمومی طورپر وزیراعظم پاکستان کے بیانات سے یہ تاثر ابھرا تھا کہ شاید نواز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت حقیقی انداز سے ملک میں انقلابی تبدیلی لانے کے خواہاں ہے اور ملک کو حقیقی لبرل معاشرے میں تبدیل کرنے کا آغاز آئینی نظام کو سیکولر بنیادوں پر استوار کر کے شروع کیا جائے گا۔

پاکستان تب تک ایک لبرل، سیکولر اور حقیقی معنوں میں جمہوری ریاست تب تک نہیں بن سکتا جب تک موجودہ آئین کے دیباچے سے قراردادِمقاصد کو حذف کر کے اس کی جگہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کو قانون ساز اسمبلی میں کی جانے والی تاریخی تقریر کو شامل نہیں کیاجائے گا۔ جناح نے اپنی اس تقریر میں امورِ مملکت سے مذہب کو علیحدہ رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔ لیکن لبرل طبقات کی خوابوں کا شیش محل اس وقت ’’حقائق کی بے رحم سنگ باری ‘‘ میں چکناچور ہو گیا جب پنجاب کے شہر جہلم میں مشتعل بلوائیوں نے احمدی برادری کی ایک فیکٹری کو آگ لگا دی۔ رپورٹوں کے مطابق فیکٹری کے ڈرائیور نے ایک ملازم پر الزام عائد کیا، کہ انہوں نے قرآن کریم کو نذرِ آتش کردیا ہے۔ اس الزام کے بعد ہزاروں بپھرے ہوئے افراد جمع ہوکر فیکٹری کی جانب بڑھے اور مرکزی دروازہ توڑ تے ہوئے اندر داخل ہوئے اور فیکٹری کو نذرِ آتش کر دیا۔ فیکٹری کے اندر موجود 15 ملازمین اور مالک بمشکل جان بچا کر وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ خوش قسمتی سے دہشت گردی کے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ سانحے کے اگلے روز ایک مرتبہ پھر مشتعل ہجوم نے فیکٹری کے قریب واقع جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ پر دھاوا بول دیا، وہاں موجود سامان کو باہر لاکر جلا ڈالا اور عبادت گاہ کو غسل دے کر وہاں نماز اداکی۔ اس ساری صورتحال میں پولیس کا کردار خاموش تماشی کا رہا۔


پنجاب پولیس کا بھیانک چہرہ:

پولیس کی ذمہ داری معاشرے میں قانون کا نفاذ اور شہریوں کی جان ومال اور عزت آبرو کی حفاظت ہے لیکن پنجاب پولیس کا تاریخی کردار زیادہ حوصلہ افزاء نہیں رہاہے۔کیونکہ پولیس کی موجودگی کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو سرِعام موت کی گھاٹ اتارنے کے واقعات اکثر رونما ہوتے آئے ہیں۔ چند برس پہلے رمضان کے مقدس مہینے میں سیالکوٹ کے ایک با اثر گروہ نے دو بھائیوں کو پولیس کی موجودگی میں موٹرسائیکل سے اتار کر چوری کے الزام میں لاٹھیوں سے مار مار کر ہلاک کردیا۔ ان کی لاشوں کو ٹرک کے پیچھے باندھ کر پورا شہر گھمانے کے بعد چوک میں لٹکا دیا گیا لیکن پولیس کو ان دہشت گردوں کا ہاتھ روکنے کی زحمت نہ ہوئی۔ ایک برس قبل لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں غیرت کے نام پر باپ اور بھائیوں نے خاتون کو اینٹیں مار مار کر ہلاک کر دیا تھا مگر پولیس سمیت عوام کا ہجوم تماشہ دیکھتا رہا۔ جوزف کالونی کو جلانے، احمدیوں کے قتلِ عام اور کورٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے جیسے واقعات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل سست رہا یا غیرموثر رہا۔ پچھلے سال ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان آمد کے موقع پر لاہور ہی میں تحریکِ منہاج القرآن کے کارکنوں کے خلاف جلیانوالہ باغ جیسا قتلِ عام بھی پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ جہلم کے سانحے میں پولیس اپنی ماضی کی روایات کو دہراتے ہوئے دہشت گردوں کے سامنے بے بس رہی۔ ڈی پی او جہلم نے اس واقعے کے بعد اپنے انٹرویومیں کہا ’’جب مشتعل ہجوم فیکٹری کی جانب بڑھ رہا تھا تو پولیس نے فیکٹری میں موجود ملازمین کو بھاگنے میں مدد دی ورنہ کوئی بھی ناخوش گوار واقعہ رونما ہوسکتاتھا‘‘۔اس بیان سے واضح ہوگیا ہے کہ پولیس قانون نافذکرنے کے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکا م ہوچکی ہے کیونکہ جب صورتحال بہت زیادہ خراب ہوگئی تو شہر میں امن وامان کو برقرار رکھنے کے لیے فوج کو طلب کرنا پڑا۔

جوزف کالونی کو جلانے، احمدیوں کے قتلِ عام اور کورٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے جیسے واقعات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل سست رہا یا غیرموثر رہا۔
جہلم سانحے کا پیغام:
جہلم میں احمدیوں کے خلاف دہشت گردی کے اس واقعے سے وزیر اعظم نواز شریف کے لبرل جمہوری پاکستان کے دعوے زمین بوس ہوگئے ہیں، اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیاجاسکتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان، آپریشن ضربِ غضب اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بلندوبانگ دعوے اصل میں وہ طفل تسلیاں ہیں جن کے ذریعے حکمران عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ فوج کے سربراہ جرنیل راحیل شریف نے چند روز قبل کورکمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا،’’دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دیرپا نتائج کے لیے ضروری ہے کہ حکومت بہتر طرزِ حکمرانی کی جانب توجہ دے‘‘۔ سپہ سالار کے اس بیان اور حالیہ جہلم واقعے کوسامنے رکھ کر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دراصل موجودہ حکومت بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی۔ واقعہ جہلم سے اس بات کا بھی عندیہ ملتا ہے کہ مشتعل دہشت گردجب چاہیں حکومتی عملداری کو پاؤں تلے روندکر قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ حکومت ایسے مواقع پر خاموش تماشائی سے بڑھ کر اور کچھ کرنے کے اہلیت نہیں رکھتی۔

Leave a Reply