لاسٹ ٹرین ہوم چائنہ میں فلمائی گئی ایک ایسی کہانی ہے جس کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ ڈاکیمنٹری ہے یا فلم۔ اِس میں نہ تو صحافتی اَندازمیں حقائق کو پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی فلم کی طرح کسی قسم کے فکشن کو اِس میں دَخل ہے۔ فلم کے ڈائریکٹر Lixin Fan نے دونوں اِصناف کو اِس قدر خوبصورتی سے ایک دوسرے میں سمویا ہے کہ یہ دیکھنے والے پر ایک غیر محسوس انداز میں بہت گہرا اَثر چھوڑتی ہے۔ فلم کے مطابق ہر سال 31کروڑ چینی نئے سال کے موقع پہ اپنے اپنے آبائی گھروں تک پہنچنے کے لیے قصبات اور چھوٹے شہروں کا رُخ کرتے ہیں ۔ 31کروڑ کی آبادی کی نقل و حرکت ایسے ہی ہے جیسے ایک دَم آدھے سے بھی زیادہ پاکستانی حرکت میں آجائیں ۔ہمارے لیے تو یہ تصور کرنا ہی محال ہے کہ اِس قدر بڑے پیمانے پرلوگوں کی نقل وحرکت ہی کیسے ممکن ہے لیکن لاسٹ ٹرین ہوم نہ صرف ایک بہت ہی بڑے کینوس پر اِس ہجرت کا ایک بہت بے ترتیب ، بے ڈھنگا اور کافی حد تک پریشان کُن رُخ پیش کرتی ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اِس میں گِھرے لوگوں کے لامحدود مسائل اور تکالیف کی ایک پُر اَثر تخیلاتی فضا میں وہ کہانی بھی بیان کرتی ہے جو شاید کئی دِنوں تک آپ کے دل و دماغ پر حاوی رہے گی۔
یہ فلم یا ڈاکیومنٹری ژانگ خاندان کے کم و بیش دو یا اَڑھائی سال کے اُن حالاتِ زندگی کو پیش کرتی ہے جو شاید بہت سے دوسرے چینی خاندانوں کے حالاتِ زندگی سے مختلف نہ ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کیمرہ گھر میں موجود کسی دوسرے فرنیچر کی طرح ہی اِس خاندان کی زندگی کا مشاہدہ کررہا ہے۔ ماں باپ جواپنے ایک بیٹے اور بیٹی کو زندگی کی چھوٹی موٹی سہولیات فراہم کرنے کی خاطر گھر سے بہت دور کام کرتے ہیں اور سال بعد ایک بہت ہی تکلیف دہ مرحلے سے ہو کر گھر کو پہنچتے ہیں۔ بیٹی جو سکول چھوڑ کر نزدیک کی کسی فیکٹری میں کام کرنا شروع کر دیتی ہے ، بچوں کی بوڑھی دادی جو سارا دن اُن کا خیال رکھتی ہے زندگی کی عام مگر ایسی بے ڈھنگی حقیقتیں ہیں جو شاید لاسٹ ٹرین ہوم جیسی فلمی ڈاکیومنٹری میں ہی قابو میں آسکتی ہیں اور ہمیں کافی حد تک اِس نتیجے تک پہنچنے میں بھی مدد دے سکتی ہے کہ صنعتی ترقی بڑی حد تک ایک مفروضے کے سِوا کچھ نہیں ۔

Leave a Reply