پاکستان میں فلمی صنعت پھر اپنے پیروں پر کھڑی ہو رہی ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی فلمیں سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں اور کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ان میں سے بعض فلمیں موضوعات اور کرداروں کے اعتبار سے بے حد عمدہ تھیں۔ لیکن پاکستانی فلمی صنعت میں ہر دور میں پشتونوں کی جو تصویر دکھائی گئی ہے وہ حقیقت سے بے حد دور، متعصب اور بعض صورتوں میں تضحیک آمیز رہی ہے۔ وجہ جو بھی ہو لیکن پشتونوں کی اس قسم کی تصویر کشی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنا، تنقید کرنا اور گلہ کرنا بحیثیت پختون اور انسان ہمارا فرض ہے ۔ طنز و مزاح اپنی جگہ لیکن اگر کسی قوم برادری، گروہ یا قبیلے کے بارے میں منفی پراپیگنڈا کرکے اپنی فلم میں جان ڈالنے کی کوشش کی جائے تو یہ کسی ایک قومیت نہیں بلکہ ہر قبیلے اور ہر قوم کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہے جس کی تلافی کسی بھی طرح نہیں ہوسکتی ۔
پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں عرصہ دراز سے پشتونوں کو مذاق اور تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اکثر ہمیں بے وقوف، دہشت گرد، جاہل، ڈرائیور،’بچہ باز’یا چوکیدار ہی دکھایا جاتا ہے

پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں عرصہ دراز سے پشتونوں کو مذاق اور تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اکثر ہمیں بے وقوف، دہشت گرد،جاہل، ڈرائیور، ‘بچہ باز’یاچوکیدار ہی دکھایا جاتاہے۔ پشتونوں کی بول چال اور طور اطوار کا مسلسل اور بے تکامذاق اڑایا جا رہا ہے۔ عموماً پشتونوں کو کسی ایسے کردار میں نہیں دکھایا جاتا جو معاشرے میں معزز خیال کیا جاتا ہو۔ اگر کسی ملک یا ڈیرے دار کو پشتون دکھایا جاتا ہے تو اسے ہمیشہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کرنے والا، پورے قبیلے کا سردار بن کر قبیلے پر ظلم کرنےوالا یا چھوٹی بچیوں کے نکاح بوڑھے لوگوں سے کرانے والا دکھا یا جاتا ہے ۔ فلموں اور سٹیج ڈراموں میں پشتونوں کو ہم جنس پرست قرار دے کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے (اگرچہ ہم جنس پرست ہونے یا پشتون ہونے میں کچھ بھی مزاحیہ نہیں) جس کی تازہ مثالیں پاکستانی فلم "کراچی سے لاہور” اور "جوانی پھر نہیں آنی” میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔

ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ کب سے ہورہا ہے؟ کون کررہا ہے؟ اب تک کیوں کررہا ہے؟ کوئی ایسا کرنے والوں سے پوچھنے والا ہے یا نہیں؟ ہمارے نام نہاد پشتون رہنما کہاں ہیں؟ کیا انہوں نے کبھی اس معاملے پرآواز اٹھانا مناسب سمجھا؟ کب تک ہم پشتون اپنی قومیت کی بناء پر تمسخراور لطیفوں کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کب تک ہمیں دہشتگرداور طالبان قرار دیا جاتا رہے گا؟ کب تک ہماری اقدار، اسلاف، رنگ ونسل، بود و باش، رہن سہن اور پوشاک کو دہشتگردوں کی علامت سمجھا جائےگا؟ کیا کوئی ہے جو ایسا کرنے والوں کو بتا سکے کہ پشتون پاکستان میں رہنے والی دوسری بڑی قوم ہے ۔ کیا کوئی ہے جو انہیں بتاسکے کہ پشتون پختونخوا، قبائلی علاقہ جات، کراچی اور بلوچستان میں ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ زمانہ امن میں جو پشتون کم عقل، جاہل، ناخواندہ، دہشت گرد، چوکیدار اور ہم جنس پرست سمجھے جاتے ہیں جنگ و جدل کے موقع پر انہیں قوم بہادر اور غیرت مند بنادیا جاتا ہے ۔ کبھی ہمیں غدار بنایا جاتا ہے تو کبھی ہمارے آباؤاجداد کو کافر، ملحد یا مرتد قرار دیا جاتا ہے ۔ ذرائع ابلاغ میں پشتونوں کی منفی تصویر کشی صرف اردو یا پنجابی ڈراموں اور فلموں ک ہی محدود نہیں پشتو سینما میں بھی پشتونوں کو حقیقت کے برعکس پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے لکھاری، ہدایتکار اور فنکار شاید فرسودہ اور غلط العام تصورات کے سوا کچھ اور سوچنے، لکھنے، تخلیق کرنے یا دریافت کرنے کی مشقت کرنے سے گھبراتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ہر ڈرامے اور فلم میں پشتونوں ے متعلق آزمودہ کردار، مکالمے اور لطیفے برت کر روپیہ کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس ملک میں اگر ایک پشتون کسی غیر پشتون کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو اس پر پاکستان توڑنے اور افغانستان یا ہندوستان کا ہمدرد ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن پشتونوں کی تضحیک کرنے کو محض مذاق سمجھ کر فراموش کردیا جاتا ہے۔

پشتونوں سے یہ تعصب صرف ذرائع ابلاغ تک ہی محدود نہیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی برتا جاتا ہے۔ بہت سے پاکستانیوں کی نظر میں پشتون رہنما خان عبدالغفارخان باچا خان کے علاوہ کوئی اور رہنما قیام پاکستان کا مخالف نہیں تھا حالانکہ علمائے دیوبند اور جماعت اسلامی نے بھی تقسیم ہندوستان کی مخالفت کی تھی لیکن نہ تو کوئی انہیں غدار کہتا ہے اور نہ مانتا ہے، بس ایک پشتون رہنما ہی ہے جو کافر بھی ہے اور غدار بھی ۔

اس ملک میں اگر ایک پشتون کسی غیر پشتون کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو اس پر پاکستان توڑنے اور افغانستان یا ہندوستان کا ہمدرد ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن پشتونوں کی تضحیک کرنے کو محض مذاق سمجھ کر فراموش کردیا جاتا ہے۔ پشتون پاکستان میں رہنے والی دوسری بڑی قومیت ہے ان کے خلاف بات کرنا پاکستانیت کے خلاف بات کرنا ہے۔ جس طرح اور قومیتیں گزشتہ اڑسٹھ برسوں سے اس ملک میں رہ رہی ہیں اسی طرح پشتون، بلوچ، سرائیکی، پوٹھوہاری، کوہستانی، سندھی اور دوسری زبانیں بولنے والے اتنی ہی مدت سے اس ملک میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ لیکن کیوں ایک زبان بولنے والا دوسرے کو کم تر سمجھ کر اس کا مذاق اڑا رہا ہے؟

اگر پشتونوں کو فلموں اورڈراموں میں ارادتاً اور غیرضروری طور پر تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو اس قوم سے تعلق رکھنے والا ہر شخص یہ حق رکھتا ہے کہ وہ کہے، پوچھے اور لکھے کہ کیونکر ایسا ہورہا ہے؟ آج اگر ہم چُپ رہے تو شاید پھر کبھی بھی نہیں بول سکیں گے۔ آج بولنا ہوگا اپنے لیے، اس ملک اور اس دھرتی پر رہنے والے ہر شخص کے لیے کیونکہ یہاں سب برابر ہیں چاہے کوئی کسی بھی قومیت سے ہو، نسل سے ہو، مذہب سے ہو یہاں کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں۔ یہاں سب انسان رہ رہے ہیں اور سب کو پہلے انسان سمجھ کر مخاطب کرنا ہوگا ۔ پشتونوں اور دیگر تمام قومیتوں کے خلاف دل آزار لطائف اور فرسودہ اور غلطالعام تصورات کو رد کرنا ضروری ہے، اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر 1971ء کو گزرے ابھی اتنا عرصہ نہیں ہوا ہے ۔

2 Responses

  1. Dost Omar

    pakhtono ka kya batao, kesi jaga bhi ezat nahi melta, har jaga n ko besti hi milti hai. halanky pak or afg me aksaryat pakhtoon hai, magar dono hi molko mei zalel or khwar hai. or ye es liay k en ka koi leader nahi

    جواب دیں
  2. Rashid Nazir Ali

    باقی باتوں سے تو متفق ہوں کہ میڈیا پر پختونوں کا ایک لگا بندھا چہرہ پیش کیا جاتا ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے۔ پشتو فلمیں کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا کیوں کہ پشتو زبان سے واقفیت نہیں مگر کسی پختون دوست کی بھی راۓ ان فلموں کے متعلق مثبت نہیں۔

    جس بات سے اختلاف ہے وہ خان عبدالغفارخان المعروف باچا خان جو کہ سرحدی گاندھی کے طور پر جانے جاتے ہیں کا غدار قرار دینا اور اسکا تقابل جماعت اسلامی اور جمعیت علماء ہند سے کرنا ہے۔ گزارش ہے کہ جماعت اسلامی، جمعیت علماء ہند، مجلس احرار(سید عطااللہ شاہ بخاری)، خاکسار تحریک (علامہ مشرقی)ان سب نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی مگر جب پاکستان بن گیا تو ان کی پاکستان میں موجود شاخوں نے پاکستان کے نظام کا حصہ بنے اسکو قبول کیا نہ کہ پاکستان سے بغض پال کر بیٹھ گۓ۔ ان تمام جماعتوں نے پاکستان کے خلاف سازشوں میں کسی دشمن ملک کی ساجھے داری نہیں کی۔

    باچا خان نے بدقسمتی سے پاکستان سے بغض پالا اور آنجہانی سوویت یونین اور بھارت کی مدد سے ہر ممکن کوشش کی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا سکے۔ اسکی سب سے بڑی مثال 1974 میں انکی جماعت نیشنل عوامی پارٹی نیپ کی جانب سے اعلانیہ تخریب کاری کی کاروائیاں تھیں تاکہ صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کو پاکستان سے توڑکر ایک نام نہاد عظیم پختونستان کا قیام ممکن ہو سکے۔ انکی جماعت کے اہم رہنما اجمل خٹک کابل جا کر بیٹھ گۓ اور وہاں پر بھارت کی مدد سے سازشیں کرتے رہے۔ یہ ساری تفصیلات انہی کے ساتھی جمعہ خان صوفی کی کتاب میں درج ہیں۔ بد قسمتی سے اپنے آپ کو جمہوری رہنما کہلانے والے باچا خان شاید اپنے ہی صوبہ کے جمہور کا فیصلہ جو کہ انہوں نے 1947 میں پاکستان میں شمولیت کا کیا تھا کو تسلیم کرنے سے انکاری رہے۔ اور آخر دم تک پاکستان کے درپے رہے۔

    جواب دیں

Leave a Reply

%d bloggers like this: