حکمران جماعت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان 2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے ہی باہمی کشمکش جاری ہے۔ باقی تمام سیاسی جماعتیں خود کو نہ تو غیر جانبدار رکھ رہی ہیں اور نہ ہی کسی ایک فریق کا مکمل طور پر ساتھ دے رہی ہیں۔ یہ بات سمجھنا ہرگز مشکل نہیں کہ باقی تمام سیاسی جماعتیں اس وقت دونوں طرف کھیل رہی ہیں یعنی اگر پاکستان تحریک انصاف کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں اور حکومت ختم ہو جاتی ہے تو باقی سیاسی جماعتیں بھی اسے اپنی فتح سے تعبیر کرتے ہوئے آگے بڑھ کر کہیں گی کہ ہم نے بھی یہی کہا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، اور اگر فیصلہ حکمران جماعت کے حق میں ہو گیا تو پاکستان تحریک انصاف کے سواسبھی جماعتیں یہ کہتے ہوئے حکومتی ٹرین میں سوار ہو جائیں گی کہ دیکھا ہم نے تو پہلے دن سے ہی کہا تھا کہ ہم جمہوریت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اب اس بات سے شاید کسی کو کوئی غرض ہی نہیں رہی کہ اس وقت ” جمہوریت نام نہاد اشرافیہ کے محلات کی باندی ہے اور کچھ نہیں”۔
اگر انتخابی عملے کی غفلت سے صرف ایک ہی فریق کو فائدہ پہنچا تو یہ نقصان پانے والے فریق اور ایک عام پاکستانی کی نظر میں غلطی کے بجائے مجرمانہ چشم پوشی ہی کہلائے گی اور اس سے یقیناًیہی تاثر ابھرے گا کہ انتخابی عملہ مامور ہی ایک مخصوص پارٹی یا فرد کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا
جوڈیشل کمیشن جس طرح سماعت کر رہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ اونٹ جلد ہی کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا یہ الگ بات ہے کہ ایک فریق اونٹ کی پشت پہ سوار ہو گا تو دوسرا بیٹھنے والے اونٹ کی کروٹ کے نیچے ۔ مذاکرات کے ریکارڈ دور ہوئے لیکن ہر دفعہ بات ایک ہی نقطے پر آ کر رک گئی کہ دھاندلی کی تعریف واضح نہیں ہو پا رہی ۔ کفر ٹو ٹا خدا خدا کر کے ، کہ جوڈیشل کمیشن قائم ہوا تو الزامات باقاعدہ ایک فورم تک پہنچ گئے۔ جوڈیشل کمیشن کی کاروائی کے دوران ہی NA-125 سے متعلق الیکشن ٹربیونل کے فیصلے نے ایک نئی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ حیران کن طور پر ٹربیونل کے فیصلے میں دھاندلی کا ذکرسرے سے موجود ہی نہیں اور انتخابی بے ضابطگیوں کا ملبہ مکمل طور پر انتخابی عملے پر ڈال دیا گیا ہے۔ اب یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ انتخابی عملہ جو غیر جانبدار ہوتا ہے (کبھی کبھار) وہ کیوں کر کسی ایک ہی فریق کے حق میں غفلت کا مرتکب ہو گا؟ دل یہ بات ماننے کو ہرگز تیار نہیں کہ صرف انتخابی عملے کی غفلت کی بناء پر ایک ایم این اے اور ایک ایم پی اے سے جیتی ہوئی نشست واپس لے لی جائے۔ اگر تو یہ کوئی چھوٹی موٹی غفلت ہی تھی تو پھر تو سرزنش کر کے فیصلہ صادر کر دیا جاتا اس کے لیے ایک وفاقی وزیر کو کیوں ہٹانا ضروری سمجھا گیا۔ اور اگر انتخابی عملے سے بڑے پیمانے پر غفلت سرزد ہوئی ہے تو پھر یقیناًاس غفلت کے تانے بانے کسی ماہر اور گھاگ کھلاڑی تک جاتے ہوں گے۔یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ انتخابی عملے کی غفلت سے فائدہ و نقصان اگر دونوں فریقوں کو ہوا ہے تو پھر تو اسے غلطی سے تعبیر کر کے درگزر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر انتخابی عملے کی غفلت سے صرف ایک ہی فریق کو فائدہ پہنچا تو یہ نقصان پانے والے فریق اور ایک عام پاکستانی کی نظر میں غلطی کے بجائے مجرمانہ چشم پوشی ہی کہلائے گی اور اس سے یقیناًیہی تاثر ابھرے گا کہ انتخابی عملہ مامور ہی ایک مخصوص پارٹی یا فرد کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ انتخابی عملے کی لاپرواہی، کوتاہی، یا مجرمانہ چشم پوشی کا فیصلہ تو اس وقت ہی ہو پائے گا جب عام انتخابات میں فرائض سر انجام دینے والے انتخابی عملے کو بھی عدالت میں طلب کیا جائے اور کیوں کہ یہ کیس اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے اس لیے اب یہ فیصلہ عدالت ہی کرے گی ۔
NA-125 کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور بعض سر پھرے تجزیہ کار یہ بھی کہنے میں مصروف ہیں کہ خواجہ سعد رفیق صاحب کو ریلوے کا مشیر بنانے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ اسی لیے کیا گیا ہے کہ اس معاملے کو جلدی نہ نمٹایا جائے اور کچھ بعید نہیں کہ اگلے عام انتخابات کے قریب آنے تک حکومت اس معاملے کو طول دیتی رہے اور دھاندلی کی تعریف کا مسئلہ بھی جوں کا توں قائم رہے۔ پہلے پہل سننے میں آیا کہ انتخابی عملہ غفلت کا مرتکب ہوا، کچھ لوگوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالے، ضروری دستاویزات میسر نہیں تھی لہذا جیتنے والے امیدوار اور ووٹر کا اس میں کیا قصور۔ لیکن سمجھ نہیں آتا کہ انتخابی عملے کی غفلت محض لاپرواہی تھی یا دانستہ کسی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش؟ اگر کسی نے ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالا تو کیا وہ خود ہی باہر سے دوبارہ واپس ووٹ ڈالنے آیا یا کسی کے کہنے یا بھیجنے پہ؟ ضروری دستاویزات اگر غائب ہیں تو کیا یہ بھی لاپرواہی سے غائب ہوئیں یا کسی کہ کہنے پہ ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو دھاندلی کی تعریف میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
یہ واویلا کہ جوڈیشل کمیشن بنانے پر اصرار، دھرنا دینا، یا دھاندلی کا شور مچانا جمہوریت پہ وار ہے سرا سر غلط ہے، ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جو سوالات اٹھ رہے ہیں ان کے جوابات مل جانے سے جمہوریت یقیناً مضبوط ہو گی۔
جوڈیشل کمیشن میں عام انتخابات کے دوران پنجاب سے ممبر الیکشن کمیشن کے بیان نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ جس میں سب سے اہم نقطہ اضافی بیلٹ پیپرز کی چھپائی ہے ۔ جس کے بارے میں کہا گیا کہ کئی آر اوز نے اضافی بیلٹ پیپرز کے لیے درخواستیں دیں جن کی کوئی مناسب تحقیق کیے بناء اضافی بیلٹ پیپرز دے دیے گئے۔ اب ایسا کیوں کیا گا اس کا فیصلہ تو جوڈیشل کمیشن کرے گا لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ حکمران جماعت کے لیے NA-125 کے فیصلے کے بعد جوڈیشل کمیشن میں اس وقت کے پنجاب سے ممبر الیکشن کمیشن کے بیان سے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ حلقہ NA-122 میں نادرا کے ذریعے ووٹوں کی تصدیق کے دوران 93ہزار ووٹ ناقابل تصدیق قرار پائے ہیں جس کی وجہ ناقص سیاہی کو قرار دیا گیا۔ تو جناب ناقص سیاہی کیوں استعمال کی گئی ؟ کس کے کہنے پہ استعمال کی گئی؟ ان سوالات کا جواب ڈھونڈنا اب کمیشن کا کام ہے۔ اب ناقص سیاسی کا استعمال کر کے انگوٹھوں کے نشانات کو ناقابل شناخت کیا گیا یا خود بخود ایسا ہو گیا۔ یہ سمجھنا میرے جیسے عام سے لکھاری کے بس کی بات نہیں ہے۔
دھاندلی کیا ہے؟ اگرچہ اس کی تعریف ریاستی قوانین میں موجود ہے لیکن اب اس کی تعریف کرنا شاید نہ تو سیاسی جماعتوں کے بس میں رہا ہے نہ ہی ایک عام ووٹر کے کیوں کہ اس کا فیصلہ کرنا اب جوڈیشل کمیشن کا کام ہے ۔ اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کا جو بھی فیصلہ ہو گا انہیں قبول ہو گا۔
انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں؟ غفلت برتی گئی یا نہیں؟ کسی کا مینڈیٹ چرایا گیا یا نہیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والے چند دنوں میں سامنے آ جائیں گے ۔ یہ واویلا کہ جوڈیشل کمیشن بنانے پر اصرار، دھرنا دینا، یا دھاندلی کا شور مچانا جمہوریت پہ وار ہے سرا سر غلط ہے، ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جو سوالات اٹھ رہے ہیں ان کے جوابات مل جانے سے جمہوریت یقیناً مضبوط ہو گی اور جمہوریت کی مضبوطی ہی ہر فیصلے کی بنیاد ہونی چاہیے کیوں کہ اسی طرح وطن عزیز ترقی کی راہ پہ گامزن ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply