[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی "دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ڈسپلن کا بڑا عجیب و غریب معنی ہم نے بنالیا ہے اور وہ ہے طے شدہ اوقات میں کوئی کام کرنا۔کام دل سے ہوا کرتے ہیں، طے شدہ اوقات کے حساب سے نہیں
ہر بات انسان کے طے شدہ معاملات کے ساتھ نہیں چلتی ہے، میں نے ایسے دوست دیکھے ہیں، جو زندگی کو برتنے کے قاعدے بناتے ہیں، پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں، حساب لگاتے ہیں اور پھر ایک دنیا بنانے کا خواب دیکھتے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے زندگی سے اب تک یہ نہیں سیکھا کہ وہ بالکل غیر متوقع ہے۔ اتنی غیر متوقع کہ جو بات ہم سوچتے ہیں، اسے کرنے اور کرپانے میں بہت فاصلہ ہوتا ہے۔اس لیے زیادہ ضروری یہی ہے کہ جینے کا موقع مل رہا ہے تو جی لیجیے۔ جس دوپہر آپ کا دل لمبی تان کر سونے کا چاہ رہا ہو،اگر اس دوپہر آپ کسی دفتر کی چپچپی کرسی پر چوتڑ چپکائے بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ بے وقو ف ہیں۔ڈسپلن کا بڑا عجیب و غریب معنی ہم نے بنالیا ہے اور وہ ہے طے شدہ اوقات میں کوئی کام کرنا۔کام دل سے ہوا کرتے ہیں، طے شدہ اوقات کے حساب سے نہیں، مجھے اگر پڑھنا اچھا لگتا ہو تو میں لمحوں کو گن کر، ان کا حساب لگا کر نہیں پڑھوں گا اور اگر میں پڑھنے کا ٹائم ٹیبل سیٹ کرتا ہوں تو بے وقوف ہوں، کیونکہ میں اگر ایسا کرتا بھی ہوں تو اس دوران پڑھنے سے زیادہ ٹائم پر توجہ دوں گا۔کاموں کو مشینی طور پرکرنے کے ہم اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ زندگی کو بھی مشینی طور پر ہی گزارنا چاہتے ہیں۔میں نے جو بھی نوکریاں کیں۔ آرچ میڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ میں یا ریختہ میں یا کہیں اور۔ان میں کبھی میں نے خود کو بھاگتے ہوئے دفتر نہیں پہنچایا۔میں چاہتا تو دوسروں کی طرح ایسا کرکے باس کی نظر میں ایک ڈسپلنڈ انسان بن سکتا تھا، مگر مجھے ڈسپلن سے زیادہ زندگی کی قدر کرنی تھی اور میں وہی کرتا ہوں۔کوئی بھی نوکری آپ سے بس بندھا ٹکا وقت چھین سکتی ہے، آپ کے نصیب کا چین سکون نہیں چھین سکتی۔اور سارا چین سکون حاصل ہونے سے پہلے اپنی ذات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔گدھوں کی طرح زندگی گزار کر، خود کو انسان تصور کرنا ایک بڑی حماقت ہے۔آپ جو کام پسند کرتے ہیں، اس میں کی جانے والی محنت ، اس کا صحیح پھل دیتی ہے، پھل اس طرح کہ وہ کام بہت عمدہ ہوتا ہے، لوگ اسے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، آپ کی محنت رنگ لاتی ہے،اس میں وقت کا حساب نہیں ہوتا، کبھی کبھی آپ چوبیسوں گھنٹے جاگ کر وہ کام کیا کرتے ہیں، آنکھیں لال ہوجاتی ہیں، گھر والے چخ چخ کرتے ہیں، نزلہ ہو، زکام ہو یا بخار، جس کام سےعشق ہو، اسے کرنے سے کوئی جسمانی یا ذہنی پریشانی روک نہیں سکتی۔میں نے بہت پریشان کن حالات میں بھی ادبی کام کیے ہیں، جو مجھے اچھے لگتے تھے، جن دنوں نہیں اچھے لگتے، نہیں کرتا ہوں۔جن پروڈکشن ہاوسز میں میں کام کیا کرتا ہوں، وہاں ایک دن قریب چار سال پہلے کی بات ہے، مجھ سے کسی پروڈیوسر نے کہا کہ تصنیف! پروفیشنل رائٹنگ کا مطلب ہے، وقت پر کام کرکے دینااور اچھا کام کرکے دینا، رائٹنگ اس فیلڈ میں صرف آرٹ نہیں ہے، بلکہ ذمہ داری ہے، میں نے اس سے کہا کہ ذمہ داری کیا ہے، صرف کام کردینا، یا کام کو اچھی طرح کرنا۔اس نے جواب دیا کہ اچھی طرح کرنا۔میں نے کہا کہ اگر میں دو ہفتوں تک کچھ اچھا سوچ ہی نہ سکوں تو اچھا کیسے لکھوں گا۔۔اور اگر اچھا نہیں لکھوں گا تو پہلی ذمہ داری ہی نہیں نبھاپاوں گا، دوسری کا کیا بنے گا۔اسی طرح ایک دن میری ایک دوست نے مجھے ٹوکا تھا، اس نے کہا کہ تصنیف تمہیں مکالمے نہیں لکھنے آتے، تم یہ مت لکھا کرو، اس دن سے میں نے ڈائیلاگ رائٹنگ کا کام لینا بند کردیا۔مجھے واقعی احساس ہوا کہ میں نے کچھ غلط کام لے لیا تھا۔ایسے اور بھی بہت سے کام ہیں، جن کو کرکے، ان میں ناکامی اٹھانے کے بعد میں نے تہیہ کیا کہ دوبارہ ان کی طرف کبھی رخ نہیں کروں گا۔

میں مانتا ہوں کہ دنیا میں ایسے مجبور لوگ بھی ہیں کہ جنہیں کھانے میں نمک کم یا زیادہ محسوس ہونے پر بھی کسی طرح لقمے توڑنے پڑتے ہیں مگر اس زہر مار کو خود پر حاوی ہونے دینے کا مطلب ہے کہ آپ ایک روز اصل کھانے کا مزہ بھول جائیں گے۔
ہمارے ایک دوست اور خیر خواہ ہیں، طارق فیضی، انہوں نے مجھے ایک دفعہ سخت پریشانی کے عالم میں ایک انگریزی ناول کا ترجمہ کرنے کے لیے دیا، میں نے اسے جلد از جلد کردیا۔ اس زمانے میں انگریزی ناول کا ترجمہ کرنے پر ایک فخر کا سا احساس بھی ہوا تھا، اس ترجمے کی قیمت بہت کم ملی تھی،مگر مجبوری تھی، کیونکہ میں خود ترجمے کے کام کی اہمیت اورقیمتوں کو ٹھیک سے نہیں جانتا تھا۔طارق فیضی، اردو پریس کلب انٹرنیشنل کے جنرل سکریٹری ہیں اور بہت یار باش قسم کے آدمی ہیں اور کھلکھلانے، کھل کر زندگی بتانے کے قائل ہیں، ہرسال دبئی میں ایک عالمی مشاعرہ کرتے ہیں اور بہت کامیاب قسم کی زندگی گزار رہے ہیں۔سیاست، فلم اور دوسرے تمام شعبوں میں ان کی شناسائی بہت اچھے لوگوں سے ہے۔وہ کام دبئی میں ہی رہنے والے کسی ہندوستانی نژاد شخص کا تھا۔ میں نے جو ترجمہ کیا سو کیا، اس پر ایکسائٹمنٹ میں دیباچہ بھی لکھا۔ وہ ایرانی پس منظر میں لکھا گیا ایک انگریزی ناول تھا، ایک تو ناول بہت پھسپھسا تھا، دوسرے نہایت خراب ترجمہ، اس پر بے ڈھنگے قسم کا دیباچہ، جس میں بلا سبب کی اوٹ پٹانگ باتیں میں نے بھردی تھیں۔اس وقت میرے ایک دوست فیاض احمد وجیہہ نے مجھے بہت برا بھلا کہا تھا، میری ان سے اس معاملے پر کچھ ان بن بھی ہوگئی۔ مگر ان کی بات صحیح تھی، جس کا بعد میں مجھے اندازہ ہوا،اصل میں میں ان کے آئینہ دکھانے سے کچھ کھسیا گیا تھا۔ترجمے کی خرابی کا سارا بھگتان طارق صاحب نے جھیلا، ان کا تعلق بھی اس شخص سے کچھ خراب ہوا مگر طارق فیضی کی زندہ دلی پر حیران رہ گیا کہ اس نے مجھ سے ایک حرف بھی خراب نہ کہا۔بس مجھے یہی سمجھایا کہ تصنیف! کام نہ کرو، کوئی کام دو سال تک نہ کرو، مگر جب کرو تو ایسا کہ دنیا اش اش کراٹھے۔تب میں نے فیصلہ کیا کہ کاموں میں جلد بازی اچھی چیز نہیں۔لوگ جسے پرفیکٹ کام کہا کرتے ہیں، اس کا کوئی وجود نہیں، اول تو اچھا کام انتخاب کرنے کا موقع ہم جیسوں کو ملتا ہی کہاں ہے۔جو کام دے دیا گیا ہے، وہ بس کرنا ہے، اور اس لیے کرنا ہے تاکہ دوسرے اس سے بہت سا فائدہ حاصل کریں۔

میں ایک پروڈکشن ہاوس کے لیے آج بھی کام کرتا ہوں، ان کا طریقہ یہ ہے کہ مجھے کام بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اطمینان سے کرنا یا پھر انکار کردینا۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آج تک ان کے جتنے کام میں نے کرکے دیے ہیں، وہ ان کی بیسٹ ڈیل کے طور پر انہیں دستیاب ہوئے ہیں۔طے شدہ وقت میں آپ وہی کام کرسکتے ہیں، جس میں ہروقت آپ کا دل لگا ہوا ہو، وہ کام تو آپ اس وقت سے کم میں بھی کرلیں گے۔مگر جن کاموں کو کرنے کا دل ہی نہ ہو، وہ بس معاشی مجبوریوں کے تحت کیے جارہے ہوں، انہیں کرنے یا کرتے رہنے کو ، گھسے پٹے انداز سے کرنے سے بہتر ہے کہ آپ درمیان میں ہی چھوڑ دیں۔میں مانتا ہوں کہ دنیا میں ایسے مجبور لوگ بھی ہیں کہ جنہیں کھانے میں نمک کم یا زیادہ محسوس ہونے پر بھی کسی طرح لقمے توڑنے پڑتے ہیں مگر اس زہر مار کو خود پر حاوی ہونے دینے کا مطلب ہے کہ آپ ایک روز اصل کھانے کا مزہ بھول جائیں گے۔میں اصل کھانے کا مزہ بھولنا نہیں چاہتا، یہ میرے وجود کا مسئلہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ زندگی پر ڈسپلن کو زیادہ ترجیح دیتے ہوں، جیسے بہت سے لوگ زندگی پر مذہب کو، قومیت کو یا پھر محبت کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے لیے مارنے مرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ میں وہ کام نہیں کرسکتا، چنانچہ یہ کرتا ہوں اور خوش رہتا ہوں۔

یوں تو ہمارا اندرونی سسٹم کسی اجگر کے بگڑے ہوئے ہاضمے کی طرح سڑتا جارہا ہے، مگر ہم لوگوں میں ذوق پیدا کرنے کے بجائے، اسے ماررہے ہیں۔
ادبی کاموں میں بھی میں کبھی کبھی جب بہت اکتا جاتا ہوں تو اچھی سے اچھی کتاب کو اسی وقت بند کردیتا ہوں، زبردستی کسی ایک سطر کو بھی پڑھنا میرے لیے بڑا مشکل کام ہے۔مجھ سے لوگوں نے اکثر شکایت کی ہے کہ ہم نے آپ کو بہت سی نظمیں، غزلیں اور نہ جانے کیا کچھ بھیجا ہے، آپ نے کبھی نہیں دیکھا۔یقین جانیے کہ اگر میں انہیں دیکھنے لگوں اور خود کے ساتھ ہلکی سی بھی زبردستی کروں تو ممکن ہے کہ بہت اچھی چیز بھی میرے سر سے گزر جائے اور مجھے اس کا احساس تک نہ ہو۔یوں تو ہمارا اندرونی سسٹم کسی اجگر کے بگڑے ہوئے ہاضمے کی طرح سڑتا جارہا ہے، مگر ہم لوگوں میں ذوق پیدا کرنے کے بجائے، اسے ماررہے ہیں۔آفرین کے بارے میں آپ لوگ جانتے ہیں۔وہ مجھ سے کہا کرتی تھی کہ تصنیف! اردو پر اتنی توجہ نہ دو، تم جتنا کام اردو زبان میں کررہے ہو، اس کا ایک تہائی انگریزی میں کروگے تو کچھ ہاتھ لگے گا، ورنہ ایک دن یا تو سائڈوں سے اڑے ہوئے بالوں اور ایک موٹے چشمے سمیت ، جرسی پہنے کسی پروفیسر کی طرح بڑبڑانے لگو گے یا پھر تھر ڈ ورلڈ کے کسی فرسٹریٹڈ رائٹر کی طرح خودکشی کرلو گے۔مجھے اب اس کی باتوں پر ہلکا ہلکا یقین سا آنے لگا ہے۔جب میں دیکھتا ہوں کہ مجھے لوگوں کی ٹھڈیوں میں ہاتھ ڈال کر انہیں بتانا پڑتا ہے کہ میں نے کچھ کام کیا ہے، جسے آپ مشہور اخبارات یا خبر رساں ویب سائٹس کے ذریعے بہت سے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔اور یہ کام افادیت پسندی کے پیش نظر نہیں کیا گیا ہے، بس اس کا مقصد ہے ، لوگوں تک ایک ایسی انفارمیشن کا پہنچنا، جو ان تک پہنچنی چاہیے۔تو وہ میرے کاموں کو سراہتے ہوئے ، ایک چھوٹی سی خبر کے لیے بھی معقول وجوہات بھیجنے کی درخواست کرتے ہیں۔ان کی غلطی نہیں ہے، کسی شرمندہ و شیریں زبان کے لیے تگ و دو کرنے والے کو ایسی کوئی خاص اہمیت حاصل ہونی بھی نہیں چاہیے ۔

بہرحال ، ان واقعات پر مجھے کلدیپ نیر کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، انہوں نے لکھا ہے کہ جب وہ دہلی میں اردو کے ایک اخبار، انجام کے لیے کام کررہے تھے، تو انہی دنوں اس کے ایک دفتر میں ایک بوڑھے شخص نے انہیں مشورہ دیا کہ بیٹا، اردو کا زمانہ لد گیا، اگر چاہتے ہو کہ کسی زبان میں لکھ کر دوسروں کے دست نگر نہ بنو تو انگریزی میں لکھا کرو، وہ بوڑھا کوئی اور نہیں اردو صحافت کا ایک زریں باب تھا، جسے دنیا حسرت موہانی کے نام سے جانتی ہے۔ بہرحال ابھی تک تو وہ نوبت نہیں آئی کہ مجھے اردو میں لکھ کر شرمندہ ہونا پڑے، لیکن ہاں آبھی سکتی ہے۔اس لیے اس بارے میں کچھ سنجیدگی سے سوچنا ضروری ہے۔

ابھی تک تو وہ نوبت نہیں آئی کہ مجھے اردو میں لکھ کر شرمندہ ہونا پڑے، لیکن ہاں آبھی سکتی ہے۔اس لیے اس بارے میں کچھ سنجیدگی سے سوچنا ضروری ہے۔
گورو اور میں ایک دفعہ یوسف سرائے کی سڑک پر رات کو تین بجے ایک نالے کی پائری پر بیٹھے تھے۔ ادھر ادھر کتے منڈرارہے تھے، ہم کسی ٹھیلے سے خریدا ہوا ایک چھوٹا برگر ان دنوں بڑے شوق سے کھایا کرتے تھے، گورو اس دن یہی سوچ کر بہت پریشان تھا کہ اس نے ہندی میڈیم سے کیوں پڑھائی کی۔میں نے اس سے کہا کہ واقعی ہم لوگ دونوں بڑے عجیب و غریب منظر میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں۔سین یہ ہے کہ ایک قوم تھی، جس نے خود کو زبان اور مذہب کی ایک بڑی سی تلوار سے آدھا آدھا کاٹ لیا، خون اچھلا، ہاتھ پیر تڑپے، جڑواں جسموں سے تڑپ تڑپ کر ہزاروں روحیں چیختی چلاتی آسمانوں کی طرف دوڑنے لگیں، چاند سرخ ہوگیا، بادل گاڑھے اور زہر آلود، پٹریوں پر خون کے سیاہ دھبے، جو آتی جاتی ٹرینوں سے لٹکتی ہوئی لاشوں کی زبانوں پر ثبت ہوتے رہے مگر اس پوری چیخ پکار، لڑائی بھڑائی کے جو بنیادی مقاصد تھے، دو لوگ، ایک ہندو، ایک مسلمان۔آج وہ دونوں ہی ایک نالے کی پائری پر بیٹھے ہیں، آس پاس کتے منڈرارہے ہیں اور ایک ٹھیلے سے خریدا ہوا برگر کھاتے ہوئے اپنی مادری زبان کو گالیاں دے رہے ہیں۔کیا انگریز واقعی چلا گیا ہے؟کیا ہم واقعی کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں؟کیا ہمیں واقعی لڑنا چاہیے تھا؟کیا ہم واقعی ملک پرست لوگ ہیں؟ پتہ نہیں، مگر ہم انہی لوگوں کی اولاد ضرور ہیں، جنہوں نے وقت کے بہتے ہوئے سرخ دریا میں اپنے پھولتے ہوئے جسموں کو دیکھ کر بھی کبھی کوئی احتجاج نہیں کیا، ہمارے اجداد کے ہاتھوں میں انگریز کی پہنائی ہوئی ڈیڑھ سو سالہ پرانی زنجیریں تھیں، جو اب بھی پڑی ہیں، زنگ آلود، بجتی ہوئی زنجیریں،جنہیں توڑتے توڑتے مسوڑے زخمی ہوچکے ہیں اور پائوں تھک کر رات کے سرہانے اس نالے کی پائری پر لٹکنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں، اب کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ پیر تعفن پھیلاتی ہوئی سیاہ لہروں کی جانب ہیں یا پھر کالک اگلتی ہوئی اوبڑ کھابڑ سڑک کی طرف!!
(جاری ہے)

Leave a Reply