Laaltain

ہمارے لیے لکھیں۔

architecture_calligraphy-scaled

خطاطی اور تعمیرات: لفظ و معنی کا انفصال (اسد فاطمی)

اسد فاطمی

اسد فاطمی

08 اپریل, 2024

غالب نے ایک بار کہا تھا کہ ہر مکان اپنے مکین سے شرف پاتا ہے۔ جبکہ ہر دونوں ایک دوسرے کی کیفیت کے عکاس ہوتے ہیں۔ اگرچہ آرائش کا سلیقہ کسی پرشکوہ نشیمن کا محتاج نہیں، تاہم تعمیراتی زیبائشوں کو دنیا کی ہر ثقافت میں، آبادیاتی شناخت کے ظاہری اظہار کے ساتھ ساتھ تحدیثِ نعمت کی ایک ادا سمجھا جاتا ہے۔ خط اور خطاطی ایسی زیبائشوں میں ایک نمایاں شناختی نشان و بیان ہے۔

صدیاں پہلے کے متوسط آدمی کے رہن سہن کے دھندلے سے سراغ اُس کے وقت میں لکھی گئی محلاتی تاریخ سے کہیں کہیں ملتے ہیں، اور اب تک مٹی میں مل چکے اس کے گھر کے چہرے مہرے کی ہلکی سی جھلک اُس کے زمانے میں بنی اُن پرشکوہ عمارتوں سے کہیں کہیں منعکس ہوتی ہے، جن میں سے کچھ کے نام و نشان ابھی باقی ہیں۔ یہاں میں اُس آدمی کی شناخت، دائیں سے بائیں ایک مشترک رسم الخط میں لکھی گئی ایک سانجھی روایت سے کروں گا، جس کے اَن گنت نام ہیں لیکن میرے نزدیک وہ روایت ایک اُلوہی مکاشفے سے کہیں زیادہ ایک تاریخی و جغرافیائی سچائی کی طرح ہے۔ کہ جب وہ شعوری روایت گنگ و جمن کے دوآبے میں پھل پھول رہی تھی تو فتح پور سیکری والے لال پتھر میں بنی جھلملیوں سے لے کر آگرے کے سنگِ مرمر والے خواب میں پلے امانت خاں کے طغروں تک، عمارتیں دن بہ دن اپنے روپ اور رُوکار کو سنوارنے میں لگی ہوئی تھیں۔ جن کے آگے تغلقوں اور لودھیوں کے عہد میں کھردرے سنگِ سماق سے بنائی گئی عمارتوں کے چہرے یوں لگنے لگے جیسے کسی نوواردانہ جلدبازی میں بنے ہوں۔ لیکن عربانِ صقلیہ سے چلے آرہے زیبائشی آویزوں کے ذوق و شوق کا تواتر عہد سلاطین سے اِس منزل تک کبھی بھی معطل نہیں رہا۔ اٹھارہویں صدی کے وسط میں باوجودِ زوال، صفدر جنگ اور بی‌بی کا مقبرہ بنا تو دلی میں اُن زیبائشوں کے چرچے گھر گھر پہنچے۔ اِس مقام تک، خطاطی کا فن ہر طرحدار عمارت کے حسن کا ایک لازمی جزو رہا۔

تنزل کی نوبت بجی تو یورپ سے آئے نیو-گاتھک اور نوکلاسیکی اسالیب، راجپوتی حویلیوں اور مغلئی محلات کے ساتھ ایک رومانویتی پیوند بنا کر اپنے سے عجائب کھڑے کرنے لگے۔ یہاں عمارتی نوشتوں کی بات کریں تو ایسا لگتا ہے کہ بلاغتی کتیبوں کا جو ذوق اہلِ یورپ کو بلادِ روم سے ملا تھا، یہاں تک پہنچتے پہنچتے اس کی معنویت اور اعتبار شاید ماند پڑ گیا تھا۔ راج بدلا تو روایتی بنگالی گھر اور متوسط وکٹوریائی گھر کے امتزاج سے بننے والا “بنگلہ” ہر شخص کے لیے سپنوں کے گھر کے لیے ایک مترادف لفظ بن گیا۔ لیکن اب گھروں کی شان و شوکت کا معیار رنگ برنگی آرائشوں سے زیادہ جدید سہولیات تھیں۔ نئے تعمیری مواد اور تکنیکیں آ رہی تھیں اور ان ڈھانچوں کی رگوں میں بجلی کی طاقت دوڑ رہی تھی۔
صنعتی انقلاب نت نئے نعروں کو جنم دے رہا تھا اور بیسویں صدی کے اوائل سے ہیئت کا قبلہ پوری طرح مقصدیت کی طرف موڑ کے آرائش کو زور و شور کے ساتھ مطعون کیا جانے لگا۔ شہروں میں گھر اور دفتر دودھیا سفید رنگ کی سپاٹ مسطح دیواریں تھیں، کہیں کسی پیشانی پر کسی پھول کی استرکاری، شاذ کسی کگر پر کسی بیل بوٹے کی منبّت۔ مقصدیت کے فرمان پر اگر کسی نوشتے کے دم مارنے کی گنجائش تھی تو بس اتنی کہ دو چار بالشت کی مستطیل پر کوئی خبری کتیبہ اٹکا سکتے ہو۔ جس کے لیے نہ آرائش کی کچھ خاص حاجت ہے نہ ذوق سلیم کی کوئی حجت۔ کوئی طے شدہ نام، تاریخ یا عدد ہو۔ کتیبہ ہو، آویزہ نہ ہو۔ کتابت ہو، خطاطی نہ ہو۔

1857ء کی شکست کا تاریخی ملبہ نوے سال بعد جس “ارض المیعاد” پر گرا تھا، اس کے مقامی باسیوں کا تاریخی تجربہ، گنگ و جمن میں پچھڑ کے آنے والوں سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔ انہیں اُس صدی نے نوکلاسیکی اور جدیدی وضع کے جو در و دیوار دیے تھے، انہی میں پڑ رہے۔ 60ء اور 70ء کی دہائیوں میں جدیدیت کے سفید دودھیا مقصدیت پسند ڈبے پھیلنے، پچکنے اور رنگوں میں ڈھلنے لگے۔ لیکن تنوّع اور رنگارنگی کے اثبات میں ابھرا نیا مابعدی طرزِ تعمیر یہاں تک آیا بھی تو گلوبلائزیشن کے ڈبے میں بند ہو کر۔ کہنے کو عمارتیں اب آنے جانے والوں سے کھل کر کلام کر رہی تھیں، لیکن ہمارے یہاں یہ بھی زبانِ غیر کا کلام ہی رہا۔ عمارتیں ایک دوسرے سے جتنی مختلف نظر آتی تھیں، اتنی ہی یکساں بھی تھیں۔ شہری پسار میں نت نئے رہائشی منصوبوں والے متوسط گھروں سے لے کر کام کاج کے کثیر منزلہ دفاتر تک، اب روکاروں پر سیاہ، سرمئی، بھورے خالی کینوس ابھر رہے تھے۔ ان نئی گنجائشوں سے اتنا تو ہوا کہ دیسی کلاسیکی عناصر سے کوئی جھروکا، کوئی شہتیر کہیں بیچ میں سمایا ہوا نظر آ گیا، لیکن شناخت کے بحران میں لپٹی شاید بہت کم ثقافتیں ایسی ہوں گی جو دیسی کلاسیکیت کی طرف سیدھی رجعت کیے بغیر ان گنجائشوں سے کچھ فائدہ اٹھا سکی ہوں۔ یہ طرز تعمیر، خطاطی سمیت بظاہر ایسی کسی زیبائش سے مانع نہیں ہے جو ایک خطے کو کسی خاص مشترک توارث سے متعلق کسی لڑی میں پرو سکتی ہو۔

لیکن اس گنجائش کے ہوتے ہوئے، عمیق تر فنی اظہار کے بلاغتی کتیبوں کی بات کریں تو زیبائشی غرض سے عمل میں لائے گئے کلاسیکی خطاطی کے بچ رہے اسالیب کے لیے خدا کے گھر کے سوا کوئی جائے امان بہت کم نظر آتی ہے۔ دنیاوی استعمال کی عمارت پر لکھنے کو کچھ رہا بھی تو نہیں۔ وحی و الہام یا مقدس اسماء سے سجاوٹ کریں تو حدّ محال تک مشکل بنا دیے گئے تقدیس کے امر و نواہی کا بوجھ کس گناہ‌گار کے کاندھے اٹھائیں۔ یا پھر کلاسیکی شاعری کو چنیں، جو گائیکی کی بندشوں سے لے کر تعمیراتی گنجائشوں تک، دوسرے فنون کے ساتھ سما جانے کے لیے، صنائع اور اوزان میں تشاکل و تناسب کے ہر ریاضیاتی میزان پر تو پوری اترتی ہے، لیکن مصیبت یہ ہے کہ اس کے نفسِ مضمون میں سوائے حسرتِ تعمیر کے، باقی بیشتر مضامین ان مقاصد کے لیے فارغ از کار، کم متعلق اور قصۂ پارینہ سے لگتے ہیں۔ نئے زمانے کی سٹپٹاہٹ سے پھوٹنے والی جدید اصنافِ نظم کو اٹھائیں تو ایک مصرع ڈیڑھ اینٹ کے ماپ پہ لکھا جائے اور اگلا مصرع سمانے کے لیے پورے تعمیری منصوبے میں ہی چند کنال توسیع کرنی پڑے۔ ایسے میں کوئی سلام و پیام، کوئی نعرہ، کوئی واحد تحریری اصول، عہدِ رواں کی خانگی و عملی گتھیوں کو خط کشیدہ کرنے میں کافی نہیں لگتا۔ متوسط آدمی جس کے گھر اور کارگاہ کو عہدِ جدید نے اُن سہولیات سے آراستہ کر دیا ہے جو ماضی میں بادشاہوں کو بھی میسر نہ تھیں، لیکن وہ اپنی زیرِ بحث اجتماعی شناخت میں رہ کر، ایسی کسی جدید آسائش کی اختراع کے عمل میں اپنی کوئی نمایاں عملی شمولیت نئی دنیا کے آگے نہیں جتا سکتا۔

بیدل دہلوی:
سطرے نہ نوشتم کہ نہ کردم عَرَق از شرم
مکتوبِ من از خجلتِ پیغام سفید است

عام آرائشی مقاصد کے لیے بنے بلاغتی آویزوں میں “ما کَتَب” کا ایک اشکال یہ بھی ہے کہ سوچے سمجھے لسانی معنوں کا حامل مفہوم ابھارنے کا عمل دیگر سبھی مفاہیم کے لیے منہائیت کا امکان پیدا کرتا ہے۔ مثلاً صرف خدا کے فضل کا ذکر کیا تو گویا خدا کے قہر سے اغماض برتا، گل و گلزار کی توصیف لکھی تو ایک طرح سے خارِ خزاں سے نظر چرائی۔

پھر یوں بھی ہے کہ مستعمل رسم الخط نے ہمیشہ، اپنے دوائر، نقاط اور نزول و صعود کی مانوس جمالیات کے ساتھ ہمارے جغرافیائی حیطے میں بیسیوں مختلف لسانی اکائیوں کے لیے تاریخی و شعوری وحدت کا کام دیا ہے۔ تو منظرِ عام کی کسی خطی آرائش کو کسی ایک زبان میں مقید کیا ہی کیوں جائے۔ نیز یہ ایک جملۂ معترضہ سہی، لیکن میرا ماننا ہے کہ غلبے کی جدلیات میں خواندگی کا عمل اکثر و بیشتر، فطری اور بےساختہ کی سرکوبی کر کے اسے متمدن اور مصنوع میں ڈھالنے کا آلہ بنتا رہا ہے، جو کہ بجائے خود بہیمانہ ہے۔

عمارات کی زیبائشی خطاطی میں خواندگی کی ضرورت عنقا ہونے میں بیشتر شرق نگار مصوروں کی مشرقی عمارات کی تصویر کشی ایک مثال ہے۔ انیسویں صدی میں ایڈون لارڈ ویکس کی بنائی مشہور پینٹنگ “جمعہ مسجد – لاہور، انڈیا” کی مثال لیں جس میں مسجد وزیر خاں لاہور کے داخلی راستے کی رُوکار دکھائی گئی ہے۔ پیش‌تاق کے اوپر پیشانی پر کلمۂ طیبہ پر مشتمل عبارت ہے جسے ہو بہو نقل کیا گیا ہے۔ جبکہ دائیں طرف چوکھٹے پر جہاں تعمیر کی سرپرستی کرنے والوں اور تاریخِ تعمیر سے متعلق معلومات ہیں، وہاں متن کو نقل کرنے کی بجائے ایک ناخواندہ سے تجاہل کے ساتھ نستعلیق نما لکیریں سی کھینچ دی گئی ہیں۔ اسی رو میں نیچے دائیں طاقچے کی رباعی سے بھی یونہی صرفِ نظر کر دیا گیا ہے۔ جبکہ مصور کو اس امر کا بخوبی احساس تھا کہ وہاں خواندگی کے عنقا ہونے سے عمارت کے مجموعی حسن کے انعکاس میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ اس کی ایک وجہ تو مصور اور فن‌پارے کے ممکنہ ہم‌وطن خریدار کا ایک خارجیانہ سا ان‌پڑھا پن بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک گمان یہ بھی ہے کہ پیشانی کی عبارت، جو کہ ایک بلاغتی کتیبہ ہے، اور عمارت کی اعلیٰ تر غایت و رتبہ سے متعلق ہے، اور افراد و حالات سے ماورا ہے۔ ہو سکتا ہے، جبھی اسے تصویر میں رکھ لیا گیا ہو، جبکہ دائیں کا چھوٹا چوکھٹا ایک خبری کتیبہ ہے اور اس میں دیے گئے افراد و حالات سے مصور کے وطن میں ایک متوقع خریدار کو شاید کوئی دلچسپی نہ ہو۔

لیکن یہاں موضوع کسی مذہبی عمارت کی محض تصویر کشی نہیں، بلکہ دنیاوی مقاصد کی ایک حقیقی عمارت ہے، جس کی وجہ سے ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ خبری کتیبوں کے خانے میں ماکَتَب اور اس کی خواندگی سے کوئی اغماض نہیں۔ لیکن آرائشی خطاطی کی گنجائشوں میں ایک ایسے حال اور مستقبل کی کیفیت کے متعلق ایک لاادری بیان دینا یہاں مقصود ہے، جو معلوم اور متعین نہیں ہے۔

خط اور زبان کا ربطِ باہم برقِ راعد کی کڑک اور چمک کا سا ہے۔ جو آسمان پر بیک وقت صادر ہوتے ہیں لیکن مشاہدے کی منزل تک دونوں اپنی اپنی رفتاروں سے پہنچتے ہیں۔ زبان و خط کا صدور بھی ایک ہی تقاضے یعنی اظہار اور ابلاغ کی حاجت سے ہوا ہے، لیکن ارتقاء کی پگڈنڈی پر دونوں اپنی اپنی رفتاروں سے چلتے ہیں۔ قدیم اور متوسط تاریخ میں رسمی زبان اور خط ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ساتھ چلتے رہے ہیں، اور بامعنی الفاظ کی اقلیم سے پرے خط آرائی کا خالص اور مجرد اظہار پرانے وقتوں میں نہیں ملتا۔ تاہم انیسویں صدی میں ‘سیاہ مشق’ کا چلن نکلنے سے خطاطی میں خواندنی زبان کے پچھڑ جانے کی پہلی نمایاں جھلک ملتی ہے۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یورپی نوآبادیات کے مکمل خاتمے کے ساتھ شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کی نوآزاد شدہ اقوام کے ہاتھ اپنی تاریخ کا قلمدان واپس آیا، لیکن اپنی کہانی خود لکھنے میں ایک ایسا تحیر شامل حال تھا کہ لکھنا تو جانتے ہیں، لیکن یہ نہیں جانتے کہ کیا لکھا جائے۔ عرب دنیا میں حروفیہ تحریک سے وابستہ فنکاروں نے قومی جمالیاتی عناصر کی عکاسی پر زور دیا اور عربی رسم الخط کی بصری ردِتشکیل سے نیا آرٹ تخلیق کیا۔ بغداد سے ‘بُعد الواحد’ کے فنکاروں نے اپنے بیشتر آرٹ میں رسمی زبان کی جہت سے کُوچ کر کے لکھت کی بصری جہت سے باطنی کیفیات کے اظہار کا طریق اپنایا۔ ایسا ہی رجحان مکتبِ خرطوم کے ہاں بھی ملتا ہے۔ ایران میں سقاخانہ تحریک کے آغاز سے تجریدی خطاطی، جدید ایرانی آرٹ کی نمائندہ ترین شکلوں میں سامنے آئی جس کی بدولت خطاطی اور نقاشی کے امتزاجی تجربات نے ‘خطاشی’ کی روایت کو جنم دیا۔ آج تجریدی خطاطی ہمیں نقاشی سے لے کر مجسمہ سازی تک کئی ذرائعِ اظہار میں جلوہ نما نظر آتی ہے۔ ان نمونوں نے ملبوسات، زیورات اور ظروف سمیت بیشتر اشیائے زندگی کی تزئین میں اپنا اثر ثبت کیا ہے۔ تاہم عمارات کی حد تک اس کی نئی ہیئتیں، کیلی‌گرافٹی کی شکل میں ابھی تک آوارۂ کوچہ و خیابان ہیں، اور جدید عمارات کے ایک مجسم اور پیوستہ حصے کے طور پر تجریدی خطاطی کا عام آرائشی استعمال میں دخیل ہونا ابھی باقی ہے۔

تجریدی خطاطی کی تعریف کو میں صرف کلاسیکی خطاطی کے ہندسی نظاموں سے انحراف میں ہی نہیں بلکہ خواندنی الفاظ لکھنے کی تراکیب سے بھی کوچ میں پاتا ہوں۔ ایسی خطاطی کا ہر نمونہ، فی نفسہٖ، لفظوں میں نہ سما سکنے والی کیفیات اور احساسات کے ایک دقیق اور پُرپیچ اِیڈیوگرام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس طرزِ اظہار کے باطن میں فنکارانہ اظہارِ ذات کے متعلق ایک ویسا ہی لاادری لب و لہجہ ہمیں ملتا ہے، جو جدیدیت کے عروج سے ہماری زندگیوں میں آنا شروع ہوا تھا۔ سو مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ کلاسیکی خطاطی والے سخت گیر قواعد سے آزاد ہونے کی بدولت تجریدی خطاطی وہ کشادہ ترین دریچہ ہے، جس کے ذریعے معاصر طرزِ تعمیر میں اپنے خط اور اس کے ساتھ وابستہ اجتماعی حافظے کو ایک جدید، طرحدار اور پُر امکان گھر فراہم کیا جا سکتا ہے۔