بس ایک وقت میسر ہے آدمی کے لیے
کہاں پہنچ میں ہے خوراک زندگی کے لیے
"ہوئی ہیں قیمتیں اشیائے خورد و نوش کی کم”
یہ چٹکلہ ہی چلے، گرچہ گدگدی کے لیے
ضیاعِ آب اے غافل تو اس سے پوچھ ذرا
جہاں پہ بوند بهی کافی ہے تشنگی کیلئے
نفاذ شرعِ قناعت اے حکمراں واہ وا
اب اور چاہیے کیا ہم کو سادگی کیلئے
اک اور بجلی گرائی ہے اس رعایا پر
سہیں گے اس کو بھی آقا تری خوشی کیلئے
رہا یہ حال تو بجلی کی قبر پر اکثر
چراغِ طور جلائیں گے روشنی کیلئے
عنانِ بچہ جمھورہ کو تهامیے صاحب
یہ لیڈران بھی حاضر ہیں ڈگڈگی کے لیے
کہیں پہ اپنی سیاست کا مدرسہ کھولیں
عوام سیکهے طریقے گداگری کیلئے
فقط ہے شور، عمل سے تمام بے بہرہ
خبر بهی گرم فقط ہے تو سنسنی کیلئے
عظیم قوم ہے اسکی لچک کا کیا کہنا
سلام پیش ہے تابش کا بے حسی کیلئے

One Response

  1. Rekhta

    دنیا نے کس کا راہ_وفا میں دیا ہے ساتھ
    تم بھی چلے چلو یوں_ہی جب تک چلی چلے

    I like this very much

    جواب دیں

Leave a Reply

%d bloggers like this: