[blockquote style=”3″]

اورنج میٹرو ٹرین کی تعمیر کا موجودہ منصوبہ کس طرح لاہور کی آبادی، شناخت اور ورثے کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس موضوع پر یہ تحریر "لاہور، میٹرو اور آپ” کے تعاون سے شائع کی جا رہی ہے۔

[/blockquote]

یہ دور لاہور اورلاہوریوں کے لیے دورِ ابتلاء ہے۔ اورنج میٹرو ٹرین منصوبہ اب تک لاہور کے سینکڑوں ہزاروں رہائشیوں کو ان کی رہائش گاہوں اور روزگار سے محروم کر چکا ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر کی خاطر اب تک معذور بچوں کے سکول سمیت ہزاروں گھر، دکانیں، یتیم خانے، کلینک اور سکول گرائے جا چکے ہیں اور ملتان روڈ، پرانی انار کلی ، لکشمی چوک، میکلوڈ روڈ، شالامار روڈ، جی ٹی روڈ اور دیگر مقامات پر ہزاروں مزید رہائشی اور تجارتی عمارات اورنج ٹرین کے راستے میں آنے کی وجہ سے گرائے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

پرانی انار کلی میں گھروں کی مسماری کا دلخراش منظر

پرانی انار کلی میں گھروں کی مسماری کا دلخراش منظر

بے گھر ہونے والے افراد میں بنگالی بلڈنگ، جین مندراور کپورتھلہ ہاوس میں مقیم مہاجر خاندان بھی شامل ہیں۔ بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ 1947 میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے یہ افراد 2016 میں اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں بے گھر ہونے کا دکھ سہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

حکم امتناعی کے باوجود کپور تھلہ میں مسماری کا عمل جاری

حکم امتناعی کے باوجود کپور تھلہ میں مسماری کا عمل جاری

اورنج میٹرو ٹرین کے لیے تعمیرات کے باعث شالامار، بدھو دا آوا، گلابی باغ گیٹ وے اور جنرل پوسٹ آفس سمیت کئی تاریخی عبادت گاہیں بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے، اورنج ٹرین کی تعمیر سے متاثر ہونے والی تاریخی عمارات اور مقامات کی تعداد 16 کے قریب ہے اور ان سب کو ملکی اور عالمی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ ان عبادت گاہوں میں سینٹ اینڈریوز چرچ، دی کیتھیڈرل چرچ آف دی ریزوریکشن اور موج دریا کا مزار(تعمیر شدہ 1591) بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض تاریخی مقامات صدیوں قدیم ہیں۔

چوبرجی کو درپیش خطرات اس ضمن میں ایک واضح مثال کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ چوبرجی کی عمارت 1646 میں تعمیر کی گئی تھی اور اسے National Antiquities Act 1975 کے تحت تحفظ حاصل ہے لیکن اورنج میٹرو گزرگاہ کی تعمیر کی وجہ سے اسے شدید خطرات لاحق ہیں۔ میٹرو گزرگاہ کی بنیادیں کھڑی کرنے کے لیے کی گئی کھدائی کا چوبرجی سے فاصلہ صرف پچاس فٹ ہے۔ میٹرو کے لیے تعمیر کیا جانے والا پُل چوبرجی کی عمارت سے محض تیس فٹ کے فاصلے سے گزرے گا۔ چوبرجی کے قریب اس پُل کی اونچائی 36 فٹ ہو گی۔ تعمیرات کے دوران پیدا ہونے والا ارتعاش محفوظ حد سے دس گنا زیادہ ہے، جبکہ تعمیر کیا جانے والا پُل نہ صرف اس عمارت کے نظارے میں روکاوٹ بنے گا بلکہ اس پر سے گزرتی ریل سے پیدا ہونے والا ارتعاش چوبرجی کی عمارت کو شدیدنقصان پہنچانے کا باعث بنے گا۔

چوبرجی کے قریب تعمیر کا منظر، میٹرو ٹرین سے تاریخی عمارات کو شدید خطرہ ہے

چوبرجی کے قریب تعمیر کا منظر، میٹرو ٹرین سے تاریخی عمارات کو شدید خطرہ ہے

لاہور کی تمدنی شناخت اس کی صدیوں پرانی تاریخی عمارات، باغات تہوار اور یہاں کے لوگوں کی جیتی جاگتی ثقافت ہے۔ لاہور کی یہ زندہ ثقافت یہاں کی آبادیوں، مزارات، مساجد، امام بارگاہوں، چرچوں، سکولوں، دکانوں اور ڈھابوں کے آس پاس سانس لیتی ہے۔ اورنج میٹرو ٹرین منصوبہ اس ثقافت کو لاہور کا ورثہ اور شناخت تسلیم کرنے سے گریزاں ہے، یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کی خاطر رہائشی آبادیوں کو مسمار کیا جا رہا ہے، اور اس کے بدلے دیے جانے والے معاوضے کو (اگر معاوضہ دیا گیا) ایک آبادی کے اجڑنے کے غم کا متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک ایسا منصوبہ جو لاہور کی صرف 2.2 فی صد آابدی کو سہولت فراہم کرے گا، کے لیے ہزاروں افراد کو بے گھر کرنے اور انہیں ان کے روزگار سے محروم کرنے کے بہیمانہ عمل کو ترقی نہیں کہا جا سکتا۔
تعمیرات کے اس کنکریٹ جنگل کو ترقی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، ایک ایسا منصوبہ جو لاہور کی صرف 2.2 فی صد آابدی کو سہولت فراہم کرے گا، کے لیے ہزاروں افراد کو بے گھر کرنے اور انہیں ان کے روزگار سے محروم کرنے کے بہیمانہ عمل کو ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ پرانی انار کلی میں اس منصوبے سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد دس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان نقصانات اور اس بڑے پیمانے پر لوگوں کے متاثر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ اورنج میٹرو ٹرین منصوبہ 2007 میں دو سالہ تحقیق کے بعد تجویز کیے گئے راستے اور ٹیکنالوجی کے مطابق تعمیر نہیں کیا جا رہا۔ اورنج ٹرین کی تعمیر کے لیے 2007 میں تشکیل دیے گئے منصوبے میں چوبرجی سے جی ٹی روڈ تک ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کا استعمال تجویز کیا گیا تھا۔ اس ٹیکنالوجی کو اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کا مقصد چوبرجی سے جی ٹی روڈ تک کے راستے میں آنے والی آبادیوں، دکانوں، تاریخی عمارات اورمیکلوڈ روڈ جیسے مصروف تجارتی مرکز کو تباہی سے بچاناتھا۔ ہم موجودہ حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملتان روڈ پر زیب النساء کے مقبرے سے شالیمار تک کی ریل گزرگاہ سرنگ بنا کر تعمیر کرے اور آبادیوں سے باہر راستے پر پُل تعمیر کرے۔ سرنگ بنانے کی ٹیکنالوجی کے لیے درکار اضافی رقم بہت زیادہ نہیں ہو گی، کیوں کہ اس طرح موجودہ منصوبے کے مطابق تعمیرات کے لیے زمین خریدنے کے لیے درکار رقم بچائی جا سکتی ہے۔ سرنگ کی تعمیر کو موجودہ منصوبے کے مطابق پُل کی تعمیر کے مقابلے میں اس لیے بھی زیادہ موزوں قرار دیا جا سکتا ہے کیوں کہ سرنگ کی تعمیر کے باعث لاہور کے ثقافتی ورثے اور انسانی جانوں کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان سے بھی بچاو ممکن ہو گا۔

لیکن ابھی سب تباہ نہیں ہوا ہے، لیکن اگر یہ منصوبہ اسی رفتار اور اسی انداز سے جاری رہا تو ہم سب کچھ گنوا بیٹھیں گے۔ اس لیے پنجاب حکومت کی یہ دلیل کہ اس منصوبے کو اس لیے مکمل ہونے دیا جائے کیوں کہ تعمیراتی کام کا ایک بڑا حصہ مکمل ہو چکا ہے، مکمل طور پر مسترد کر دی جانی چاہیئے۔ اگر اس منصوبے کی تعمری نہ روکی گئی تو درج ذیل نقصانات لاہور اور لاہوریوں کو برداشت کرنا ہوں گے:

• لاہور کے ثقافتی ورثے سے مزین گزرگاہ ہمیشہ کے لیے تباہی کا شکار ہو جائے گی جہاں 11 تاریخی مقامات ایسے موجود ہیں جن کے تحفظ کے لیے عدالت سے حکم امتناعی جاری کیا جا چکا ہے۔ تاریخی مقامات کی اس تباہی سے لاہور ہمیشہ کے لیے اپنی ثقافتی اور تاریخی شناخت اور سیاحوں کی آمد سے ہونے والی اربوں روپے کی آمدنی سے محروم ہو جائے گا۔

• شہری علاقوں میں حرات کے جمع ہو جانے (Urban Heat Island Effect) کے باعث شہر کے درجہ حرارت میں ناقابل برداشت اضافہ ہو سکتا ہے، گنجان آباد علاقوں میں درجہ حرارت میں ہونے والا اضافہ بیماریوں میں اضافے کا باعث بنے گا۔

• منصوبے کی موجودہ شکل میں تعمیر کے باعث ایک مربوط ماس ٹرانزٹ سسٹم کی بجائے ایک ٹکڑوں میں بٹا غیر مربوط نظام آمدورفت وجود میں آئے گا جو مستقبل میں لاہور کی ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ ایسے منصوبوں کی تعمیر کی وجہ سے لاہور کبھی بھی ایک ایسا شہر نہیں بن سکے گا جہاں ٹرانسپورٹ کی معیاری، موثر اور ضرورت کے مطابق سہولیات دستیاب ہوں۔

• پرانی انارکلی، میکلوڈ روڈ، لکشمی اور نکلسن روڈ پر مشتمل لاہور شہر کا ایک بڑا علاقہ خستہ حالی اور شکست و ریخت کا شکار ہو جائے گا۔ اس علاقے میں اورنج میٹرو ٹرین کی تعمری کے باعث جائیداد کی قیمتوں میں کمی ہو گی اور یوں یہ منصوبہ شہر کی تعمیر نو کی بجائے تخریب نو کاباعث بنے گا۔

• اس منصوبے کی تعمیر جاری رہنے سے ہزاروں مزید افراد اپنے گھروں اور روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔

اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ لاہور کے قلب میں سے گزرنے والی اورنج ٹرین کی گزرگاہ کا 9کلومیٹر طویل ٹکڑا ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعمیر کیا جائے۔
منصوبے کی اس طرح تعمیر سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کو معقول مشاورت اور رہنمائی مہیا نہیں کی گئی۔ ایل ڈی اے اور دیگر سرکاری ادارے اس منصوبے کے لیے زمین کے حصول اور دیگر معاملات میں منافع خوری کر رہے ہیں جو لاہور کے غرباء اور وزیر اعلیٰ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث ہے۔ اس بناء پر لاہور کے شہری یہ درخواست کررہے ہیں کہ حکومت پنجاب اگر خود کو ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت سمجھتی ہے تو لاہور میں بسنے والوں کے مطالبات کو سنے، عام شہریوں اور ماہرین کی پیش کردہ تجاویز پر غور کرے اور اس منصوبے کی مزید تعمیر سے پہلے عوام اور ماہرین سے کھل کر اور لگی لپٹی رکھے بغیر بات چیت کرے۔ جمہوریت کا مفہوم ہی یہ ہے کہ عام شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کیا جائے خصوصاً ایسے منصوبوں سے متعلق فیصلے کرتے ہوئے جن سے عام لوگوں کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہوں۔ لاہور کسی ایک حکم ران یا ایک سیاسی جماعت کا شہر نہیں اور نہ ہی اگلے انتخابات جیتنے کی خاطر اس کے مستقبل کو یوں داو پر لگایا جا سکتا ہے۔ ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے تعمیر ہی ان مسائل کا واحد حل ہے اور یہی طریقہ اختیار کرنے کی تجویز حکومت کی جانب سے رقم ادا کر کے کرائے گئے سروے میں بھی دی گئی ہے۔

اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ لاہور کے قلب میں سے گزرنے والی اورنج ٹرین کی گزرگاہ کا 9کلومیٹر طویل ٹکڑا ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعمیر کیا جائے۔ اس وقت دلی میں سترہ ٹنل بورنگ مشینیں زیر زمین کام کر رہی ہیں جب کہ حکومتِ پنجاب زمانہ حال کے تقاضوں کے مطابق عوام کی ضروریات اور امنگوں کا ساتھ دینے کے معاملے میں بہت پیچھے ہے۔ ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کی بجائے کٹ اینڈ کور ٹیکنالوجی کا صرف اس لیے استعمال کہ اس کے ذریعے2018 کے انتخابات سے قبل اورنج ٹرین منصوبہ مکمل کر لیا جائے لاہور کے شہریوں کو منظور نہیں۔

لاہور لاہوریوں کا ہےاور لاہور کے شہری اپنے شہر کے ثقافتی ورثے اور شناخت کو قائم رکھنے کے خواہاں ہیں۔ اورنج میٹرو ٹرین کی تعمیر اور شہر کو ایک مربوط عوامی ٹرانزٹ نظام فراہم کرنے کے لیے لاہور کے تمدنی مزاج اور ثقافتی شناخت کو تسلیم کرنا اور اس کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک مربوط ٹرانزٹ سسٹم کی تعمیر تک موجودہ سڑکوں پر مزید بسیں چلا کر بھی ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔

Image: Pakistan Today and Lahore, Metro aur Aap

Leave a Reply