(ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کے شرمناک تسلسل کی مناسبت سے۔۔۔)
عرفان ستار
لاشیں سب اٹھوا لی گئی ہیں
جتنے زخمی تھے اُن کو امداد فراہم کردی گئی ہے
جسموں کے بکھرے اعضا اب وہاں نہیں ہیں، جہاں پڑے تھے
سب کچھ ویسا ہے جیسا اُس بم کے پھٹنے سے پہلے تھے
البتہ مرنے والے کے جھلسے ہوئے ارمانوں کا اک ڈھیر ابھی تک وہیں پڑا ہے
ٹوٹے ہوئے اور مسخ شدہ خوابوں کا بھی انبار لگا ہے
ارمانوں اور خوابوں کا کیا کرسکتے ہیں ہم
ان کو دفنانے کے بارے میں بھی کوئی حکم نہیں ہے
جن کے تھے یہ، اُن کے سِوا کسی اور کے کام نہیں آسکتے
ان کی کوئی قیمت ہوتی تو انھیں کباڑی ہی لے جاتا
بالکل ہی بے مصرف ہیں، بے قیمت ہیں یہ
آوٗ کہ ہم سب مل کر اِن کو دور کہیں پھینک آئیں جا کر
اس سے قبل کہ گلے سڑے ارمانوں اور خوابوں سے اٹھنے والا تعفن
ساری فضا آلودہ کردے
آخر ہم اس شہر کو صاف رکھیں گے تو آئندہ نسلیں
صحت مند اور صاف فضا میں پیدا ہوں گی
یہ نمٹا لیں
اس کے بعد ہمیں اپنے بچوں کو بھی سمجھانا ہوگا
ان ارمانوں اور خوابوں کے کتنے مضر اثرات ہیں ممکن
تاکہ ہمارے بچے ان سے دُور رہیں اور چین سے اپنی عمر گزاریں
ویسے تم نے غور کیا ہے؟
ارمانوں اور خوابوں کی لعنت میں ہم سب کی محنت سے
کتنے قلیل عرصے میں کتنی کمی ہوئی ہے؟
اب تو یوں لگتا ہے جیسے
پولیو اور تپِ دق سے بھی پہلے شاید
ارمانوں اور خوابوں کی مہلک بیماری مٹ جائے گی
خیر۔ ۔ ۔ ابھی تو ہاتھ بڑھاوٗ
ارمانوں اور خوابوں کا یہ ڈھیر ہٹاوٗ
بے مصرف اور بے قمیت انبار اٹھاوٗ۔۔۔۔

(Published in The Laaltain – Issue 8)

Leave a Reply