Laaltain

ہمارے لیے لکھیں۔

badaltay-shehar

بدلتے شہر: جھنگ

اسد فاطمی

اسد فاطمی

17 اپریل, 2024

badaltay-shehar
شہروں کا آباد ہونا، ارتقاء اور تمدنی رجحانات ایک طویل تاریخی عمل کے تحت اس شہر کی ایک مخصوص شخصیت وضع کرتے ہیں، جو ایک مستقل تاثر کی طرح اس شہر کے ہر باسی کی شخصیت کا حصہ بن کر اس کی ذات اور مزاج کی پہچان بنے رہتے ہیں۔ ہمارے سماج میں ہمیشہ کسی بھی فرد کی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے اس کے شہر سے مخصوص عمومی تاثر کو ایک سکہ بند حوالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

شہر جھنگ مختلف زمانوں میں عشقیہ داستانوں، قبائلی سورماوں کے بہادرانہ قصوں، لوک رقص اور گیتوں کے حوالے سے اور پھر فرقہ وارانہ تشدد، مذہبی تحریکوں اور فسادات کے حوالے سے مختلف اور متضاد شناختوں کا حامل رہا ہے۔

دریائے چناب اور جہلم کے سنگم پر واقع یہ شہر کئی ہزار برس تک چاروں طرف سے آنے والے چرواہوں، مچھیاروں اور لوٹ مار کے پیشہ سے وابستہ لوگوں کے رزق کا ایک وسیع اور ہرا بھرا ذریعہ رہا ہے۔ پھر کوئی ایک ہزاری قبل جاٹ نسل کے سیال سردار مل خان نے ایک شہری ریاست کی شکل میں یہاں تمدن کی پہلی اینٹ رکھی۔ وادئ سندھ کی تہذیب کی وارث مقامی دراوڑ نسلوں کے ساتھ ایک ایک کر کے بلوچ، سیَد، اور دیگر راجپوت قبائل اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر یہاں آباد ہوتے رہے اور یہاں کی سیاسی، ثقافتی اور سماجی زندگی کا حصہ بن کر شہر کے ارتقائی عمل میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔

آریاؤں اور یونانیوں کے بعد افغانوں، منگولوں، سکھوں اور پھر انگریزوں کے قابض ہونے کے دوران شہر کے بیچ کی سیاسی تبدیلیاں معمولی فرق کے باوجود پنجاب کے دیگر شہروں کی تاریخ سے مختلف نہیں۔ سیالوں کے عہد کی خود مختار ریاست، سکھ سلطنت کا بڑا صوبہ، انگریز عہد میں پنجاب کی وسیع اور پیچیدہ ترین کمشنری اور موجودہ دور کے ایک پس ماندہ ضلع کا انتظامی مرکز شہر جھنگ ان گنت سیاسی اور سماجی تبدیلیاں تجربہ کر چکا ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے یہاں دمودر داس اروڑا اور مجید امجد جیسے شعراء، نواب سعداللہ خاں اور کرنل عابد حسین جیسی سیاسی شخصیات نے جنم لیا۔ قیام پاکستان تک یہاں کی مسلم آبادی کی جدید تعلیم سے دلچسپی برائے نام ہی رہی، اور کالجوں سکولوں میں ہندو اور سکھ طلبہ کی بھیڑ بھاڑ رہی، جس کا نقصان یہ ہوا کہ قیام پاکستان کے ساتھ یہ شہر اپنی تعلیم یافتہ آبادی کی بہت بھاری اکثریت سے محروم ہو گیا۔ اس کے ساتھ اس کا سیاسی و معاشی پس ماندگی کی جانب سفر کا آغاز ہوا۔ جنوب اور مغرب میں میں ملتان (مظفر گڑھ)، شمال میں شاہکوٹ (سرگودھا) اور مشرق میں لاہور (شیخوپورہ) کے اضلاع سے متصل حدود والے اس ضلع جھنگ کی مختلف تحصیلیں اور قصبے، مثلا لائل پور، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چنیوٹ الگ سے اضلاع میں بدل گئے اور انتظامی حدود کے سکڑنے سے شہر کی مرکزیت اور اہمیت میں برابر کمی آتی رہی۔

Jhang-4

ہر چھوٹے شہر کی طرح یہاں کی سیاست براہ راست مضافات کی سیاست کے تابع رہی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد فکری پس ماندگی کے باعث یہاں کی سیاست میں مذہبی جذبات کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے اور روحانی پیشواؤں کے راستے ایوانوں کے لیے ہموار رہے ہیں۔ دیہاتوں میں مسلکی عقائد کی بنیاد پر سادات شاہ جیونہ اور سجادہ نشینان حضرت سلطان باہو کا ایک اہم کردار رہا ہے۔ تاہم شہری سیاست میں ہندو تجارت پیشہ سرمایہ دار مہاجنوں کی ہجرت کے بعد کئی دہائیوں تک میدان خالی رہا، تاوقتیکہ ٹرانسپورٹ کے پیشہ سے وابستہ دولتمند شیخ خاندان نے شہر کی سیاست کی باگ ڈور سنبھال لی۔ اس دوران ایک نئی سیاسی طاقت کی آمد شہر کی ثقافتی اور سماجی پہچان پر سب سے ذیادہ اثر انداز ہوئی جب شہر کے متوسط طبقہ کے مذہبی جذبات کو دیکھتے ہوئے شہری سیاست میں نووارد گھرانے نے فرقہ وارانہ جذبات کے تابع ایک نئے چہرے کو متعارف ہونے میں مدد دی، جس کی تحریر و تقریر نے شہر میں فرقہ وارانہ نفرت اور فسادات کی آگ جلا دی۔ ستمبر ۱۹۸۸ء میں قائم ہونے والی انجمن سپاہ صحابہ اور مخالف مذہبی گروہوں کی عسکریت پسند تنظیمیں ابتداء میں مقامی سطح کے گروہ تھے جن کا کام شہر میں شیعہ یا سنی مذہبی پیشواؤں کی سیاسی حمایت کو گھٹانے تک محدود تھا۔ لیکن عالمی سطح پر جاری روس امریکہ سرد جنگ میں پاکستان کے کردار اور جہادی رجحان کی بین الاقوامی سرپرستی نے ان گروہوں کو ملکی اور پھر بین الاقوامی سطح پر اہمیت کا حامل بنا دیا۔ سرد جنگ کے خاتمے اور عالمی و ملکی سیاست کے پہلو بدلنے کے ساتھ ساتھ جھنگ میں فرقہ واریت کے انگارے چند سال سلگنے کے بعد اب ٹھنڈے پڑ چکے ہیں لیکن گزشتہ دو عشروں کی بہیمانہ یادوں نے شہریوں کے سوچنے کے انداز اور شخصیتوں پر گہرے نقوش مرتب کیے ہیں۔

لسانی لحاظ سے جھنگ کی مقامی زبان اپنی ایک پہچان رکھتی ہے۔ اس مخصوص لہجے کے لیے جانگلی، جھنگوچی یا جھنگوی کی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں۔ دو بڑی ثقافتوں پنجابی اور سرائیکی تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے لسانی طور پر اس لہجے کی شناخت دونوں بڑی علاقائی زبانوں کے درمیان معلق ہے۔ ۱۹۰۰ء کی دہائی کی آباد کاری اور ۱۹۴۷ کی ہجرت کے بعد امرتسر، جالندھر اور لدھیانہ سے آنے والے الاٹی زمینداروں کے اس لہجے کے ساتھ برتاؤ نے پس ماندہ مقامی لوگوں میں جو لسانی احساس کمتری پیدا کیا، وہ شہر کے اندر کم لیکن کسی دوسرے شہر جاتے ہی یہاں کے باسیوں کی بول چال میں نمایاں ہونے لگتا ہے۔ لوک گیتوں، لوک رقص، زبان اور دیگر ثقافتی اجزاء میں سرائیکی عنصر غالب ہیں اور حالیہ مجوزہ سرائیکی صوبہ کے نقشے میں جھنگ کو شامل کیا گیا ہے۔ مقامی باسی ایک مدت سے اس تذبذب میں مبتلا رہے ہیں کہ جداگانہ تشخص سے محروم ہو چکی جانگلی ثقافت پنجابی یا سرائیکی میں سے خود کو کس ثقافتی اکائی کی شاخ قرار دے۔ زبان و ثقافت میں چولستان اور جنوبی ثقافت کا غالب اثر اور سنگھا شاہی عہد میں فروغ پانے والی مشرقی پنجابی اقدار دو متضاد اجزائے ترکیبی رہے ہیں۔

ماضی قریب میں طلبہ کا اعلی تعلیم کے لیے لاہور اور ملتان کی یونیورسٹیوں کی طرف برابر جھکاو رہا ہے۔ عام لوگوں کا تلاش معاش کے لیے بھی جنوب اور مشرق دونوں جانب ایک سا رجحان رہا ہے۔ لیکن ۱۹۹۷ء میں موٹروے کی تعمیر نے لاہور کے دن بھر کے گرد آلود طولانی فاصلے کو تین گھنٹے کے ایک آرام دہ سفر میں بدل دیا۔ پنجاب کی حکومتوں کی لاہور پر غیر معمولی توجہ نے لاہور کو تمام مضافاتی شہروں کے لیے تعلیم اور معاش کے مواقع سے بھرپور سرزمین بنا دیا ہے۔ اس طرح لاہور کی جانب فاصلہ سکڑنے سے جھنگ کے شہریوں کے لیے پنجابی یا سرائیکی شناخت میں سے انتخاب کا تذبذب چند ہی سالوں میں ایک قطعی فیصلے پرپہنچتا نظر آتا ہے۔ جھنگ کے ثقافتی اور سیاسی ادارے اب پوری توانائی سے سرائیکی صوبے میں جھنگ کی شمولیت کی تجاویز کو موجودہ “جنوب نواز” حکومت کی سازش اور جھنگ کو پنجابی تہذیب کا اٹوٹ انگ قرار دے رہے ہیں۔

تعمیراتی ڈھانچے اور ظاہری وضع کے حوالے سے بھی شہر میں داخل ہوتے ہی شہر کی حالیہ پس ماندگی صاف نظر آتی ہے۔ جغرافیائی تقسیم میں شہر کو تین حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ جھنگ شہر یا سٹی (قدیم وقتوں سے قائم دیوار بند شہر)، جھنگ صدر یا مگھیانہ (جسے برٹش دور میں جھنگ کمشنری کے دفاتر اور نئی تعمیرات کے لیے بسایا گیا) اور سیٹلائیٹ ٹاؤن یا نواں شہر (۷۰ء کی دہائی میں نئی اشرافیہ کے رہنے اور جدید شہر کا تجربہ کرنے کی غرض سے بسایا گیا)۔ شہر کے تینوں حصے بلافاصلہ ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں لیکن تینوں علاقے اپنی وضع میں تین مختلف ادوار کے نمائندہ ہیں۔ پرانا شہر قدیم دور کی بوسیدہ مگر خوشنما عمارتوں اور شہر کے اچھے ماضی کی یاد دلاتا ہے۔ جھنگ صدر کی گنجان کچہریاں، سرکاری دفاتر، اور گرد و غبار اڑاتے بے ترتیب بازار اور محلے شہر کی انتظامی بدحالی پر دلالت کرتے ہیں، جبکہ سیٹلائیٹ ٹاؤن کی کھلے مین ہولز اور غلاظت اگلتی گلیاں، ایک متوقع خوشحال آبادی کے لیے ایک خوشنما بستی بسانے کے ناآسودہ خواب کے ٹوٹنے کی عکاسی کرتے ہیں۔ مقامی سیاست کے تقریبا یک قطبی ہونے کی وجہ سے اچھے انفراسٹرکچر میں مقامی حکمرانوں کی کوئی دلچسپی ابتک دیکھنے میں نہیں آئی۔

ہر شہر کے لوگوں کے مزاج کے ساتھ کچھ مخصوص لگے بندھے روایتی تاثر رائے عامہ میں رواج پا جاتے ہیں، جن کا اس شہر کے ہر باسی کو بلا تفریق سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف چھوٹے شہروں کے وہ لوگ جو اپنی ناتوان ثقافت کی صفائی دینے اور اس پر رائے عامہ بہتر کرنے کی بجائے اس کو یکسر ترک کر کے نئی اور بڑی ثقافت کو اختیار کر لیتے ہیں، وہ ان منسوب روایتی تاثروں اور لطائف کا سامنا کرنے سے بچ رہتے ہیں۔ دوسری طرف اس پہچان کے ساتھ وابستہ طنزیہ جملوں کا سامنا کرنے والے لوگ تمام عمر شناخت اور خفت کے درمیان پھنسے رہتے ہیں۔

مقامی صنعت اور ذرائع معاش سے محروم شہر ہونے کی وجہ سے پاکستان کے ہر بڑے شہر، ادارے اور صنعت میں جھنگ شہر کے مزدور پیشہ اور نیم تعلیم یافتہ باسیوں کی ایک بڑی تعداد سے پالا پڑتا ہے۔ دوسرے شہروں کے لوگوں سے اتنے بڑے میل جول کی وجہ سے دیگر شہروں کے لوگوں کے ہاں جھنگ کے باسیوں کے حوالے سے خاص تعصبات اور تاثر پائے جاتے ہیں۔ جھنگ کی ثقافت سے وابستہ افراد کے لیے ایک بے ضرر سی کتابی اصطلاح “جانگلی” کچھ مخصوص تاریخی ستم ظریفیوں کی وجہ سے باعث ننگ سمجھی جانے لگی ہے۔ مشرقی پنجاب کے نسبتا ذیادہ متمدن شہروں سے بڑے پیمانے پر یہاں آبادکاری اور رقبوں کی الاٹمنٹ کے بعد فطرت کی خالص آغوش میں رہنے والے ذراعت پیشہ مقامی لوگوں کے لیے آبادکاروں نے یہ لفظ بدوی اور اجڈ کے معنوں میں برتنا شروع کر دیا۔ یہ نام مراکز میں انہی معنوں میں برتا جانے لگا لیکن مقامی لوگ اس لفظ کے درست مطالب اجاگر کر کے اس لقب کو اختیار رکھنے کی بجائے بڑے مراکز میں اس بے ضرر شناخت سے مکرنے اور کترانے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اس ثقافتی احساس کمتری کے پیچھے ایک طویل تاریخی پس منظر کارفرما ہے۔ جس کی بڑی وجوہ عہد بہ عہد کی بیرونی تاراج، آبادکاروں کی طرف سے اجنبیانہ روش اور شہر کی حالیہ فکری، سیاسی و معاشی کم مائیگی ہیں۔

جھنگ کے باسی سیاسی اتار چڑھاؤ کے تابع عہد بہ عہد مختلف شخصیتوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔ ہزاروں برس پہلے ماہیے گاتے ہوئے اونٹوں اور بیلوں کی ہمراہی میں غلہ اگاتے اور بکریاں چراتے البیلے جانگلی، تہذیب کے باقاعدہ آغاز پر ہیر، چوچک، صاحباں، کھیوہ، چندربھان اور ہیرا سنگھ جیسے عاشق، معشوق اور رقیب، پھر جدید علوم کے آنے کے بعد ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر ہرگوبند کھرانہ جیسی نوبل انعام یافتہ سائنسی شخصیات، پھر بعد از تقسیم ہند فرقہ اور مسلک کی بنیاد پر اپنے پڑوسیوں کے گلے کاٹنے والے نفرت و شدَت پسند لوگ۔۔۔ یہ سب جھنگ کے شہریوں کے عہد بہ عہد روپ ہیں۔ اور اب ۸۰ء اور ۹۰ء کی دہائی کے بعد سے مسلسل شہر جھنگ اعلی تعلیمی اداروں میں پڑھی ہوئی، اعلی ملازمتوں سے بہرہ مند مگر مقامی شناخت پر شرمندہ شرمندہ سی ایک نوجوان نسل پیدا کر رہا ہے۔

(تحریر: اسد فاطمی)

(Published in The Laaltain – Issue 6)