آگے بڑھنے والے
بدن کو کپڑوں پر اوڑھتے، اور چھریاں تیز کر کے نکلتے ہیں
بھیڑ کو چیر کر راستہ بناتے
ناخنوں سے نوچ لیتے ہیں
لباس اور عزتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرخ مرچوں سے، ہر آنکھ کو
اندھا کر دیتے ہیں
اور بڑھ جاتے ہیں
رعونت بھری مسکراہٹ کے ساتھ
چیختے ہیں اور چپ کرا دیتے ہیں
سر عام، رقص کرتے ہیں
اور گاڑیاں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں
لڑکے لڑ پڑتے، مرد پتلونیں کس لیتے
اور بوڑھے
تمباکو میں، گڑ کی مقدار بڑھا دیتے ہیں۔۔۔۔
کوئی میز ان کے سامنے جما نہیں رہ سکتا
اور کوئی محفل ، ان کا داخلہ روک نہیں سکتی
وہ ٹھوکر سے دروازہ کھولتے ہیں
اور ہر کرسی، ان کے لیے خالی ہو جاتی ہے
ان کے دبدبے سے
دیواروں کا پلستر، اکھڑ جاتا ہے
کاغذ شور کرنا بھول جاتے ہیں
اور موسم… ارادے تبدیل کر لیتے ہیں
آگے بڑھنے والوں سے پناہ مانگتے ہیں
ان کے ساتھی۔۔۔
ڈرتے ہیں
زمین پر جھک کر چلنے والے
بوجھل خاموشی سے انھیں دیکھتے
اور گزر جاتے ہیں
آگے بڑھنے والے نہیں جانتے
کہ آگے بڑھا جا ہی نہیں سکتا
پھر بھی وہ بڑھتے ہیں
بے حیائی کی شدت
آنکھوں میں موتیا اترنے کی رفتار کو تیز کر دیتی ہے
ہر تنے کی چھال، بدن پر
انمٹ خراشیں چھوڑ جاتی ہے
پھٹکری اور ویزلین سے چکنایا ہوا ماس
ہڈیوں سے
ہمیشہ جڑا نہیں رہ سکتا
ہر بدن اور کرسی کی ، ایک عمر ہوا کرتی ہے
اور پھر ہم انھیں دیکھ سکتے ہیں
ایک دن
نچے ہوے لباس میں
خلا کو گھورتے ہوے
کسی نیم تاریک نشیب میں
پر کٹے پرندے کی طرح
مٹی پر لوٹتے ہوئے
آگے بڑھنے کی ، پیہم کوشش میں
Image: Do-Ho Suh